ایران کے دارالحکومت تہران کے حساس ترین علاقے پاستور میں، جہاں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور نومنتخب صدر مسعود پیزشکیان کی رہائش گاہیں واقع ہیں، وہاں سے فضائی دفاعی سسٹم کی مسلسل فائرنگ کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
نیویارک ٹائمز نے ہفتہ کی صبح (پاکستانی وقت کے مطابق تقریباً 3 بجے) خبر دی ہے کہ ایرانی فضائی دفاعی یونٹس نے تہران کے مضافات میں بار بار زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل فائر کیے، جن کا مقصد غالباً فضا میں کسی ممکنہ خطرے کو روکنا تھا۔
رہائشی علاقوں میں سائرن اور دھماکوں کی آوازیں
عینی شاہدین نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ تہران کے انتہائی محفوظ سمجھے جانے والے علاقے "پاستور" میں رات گئے اچانک دھماکوں اور سائرن کی آوازیں سنائی دیں۔ اس علاقے میں ملک کی سب سے اہم سیاسی اور عسکری شخصیات کی رہائش اور دفاتر موجود ہیں۔پاستور میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا دفتر، ایرانی صدر کی رہائش گاہ، اور پاسدارانِ انقلاب کے حساس مراکز واقع ہیں۔
ائیر ڈیفینس کی ویڈیوز اور سکرین شاٹس وائرل
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ تہران کی فضاء میں فضائی دفاعی میزائل بلند ہو رہے ہیں اور وقفے وقفے سے زوردار دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ کچھ ویڈیوز کے اسکرین شاٹس نیویارک ٹائمز نے شائع کیے ہیں جن میں تہران کے آسمان پر دفاعی فائرنگ کی جھلک واضح ہے۔
ایرانی حکام کی طرف سے تاحال خاموشی
اس تمام صورت حال پر ایرانی وزارت دفاع یا حکومتی ترجمان کی جانب سے تاحال کوئی سرکاری موقف سامنے نہیں آیا۔ تاہم مقامی صحافیوں اور رہائشیوں کے مطابق فائرنگ کا مقصد کسی ممکنہ فضائی خطرے کو ناکام بنانا ہو سکتا ہے، بالخصوص جب خطے میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اپنی انتہا پر ہے۔
پس منظر: ایران اسرائیل تنازع کی سنگین صورت
یہ واقعہ ایک ایسے وقت پر پیش آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست فوجی جھڑپیں جاری ہیں۔
جمعہ کے روز اسرائیل نے ایران کی تین نیوکلیئر تنصیبات پر ائیر اسٹرائیکس کیں، جن کے ردعمل میں ایران نے اب تک اسرائیل پر 150 سے زائد بیلسٹک میزائلوں کے تین بیرج فائر کیے ہیں۔
خدشات: سپریم لیڈر یا حساس ادارے ممکنہ ہدف؟
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ تہران میں اس دفاعی سرگرمی سے ممکنہ طور پر یہ خدشہ جنم لے رہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے ایرانی قیادت یا ان کی رہائش گاہوں کو نشانہ بنائے جانے کا خطرہ موجود تھا۔ایسا کوئی اشارہ باضابطہ طور پر نہیں دیا گیا، مگر ائیر ڈیفنس کا پاستور جیسے اہم مقام پر سرگرم ہونا خود ایک بڑی علامت ہے کہ ایران کسی براہ راست حملے کے خطرے کو نظرانداز نہیں کر رہا۔