امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک تازہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیل ے عراق کے مغربی صحرائی علاقوں میں کم از کم دو خفیہ فوجی اڈے قائم کیے تھے، جنہیں مبینہ طور پر ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ اڈے 2025 میں ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کے دوران بھی فعال رہے اور موجودہ علاقائی کشیدگی کے دوران بھی ان کے استعمال کے شواہد سامنے آئے ہیں۔نیویارک ٹائمز کے مطابق ان میں سے ایک خفیہ اڈے کا انکشاف اس وقت ہوا جب ایک عراقی چرواہا اتفاقاً اس مقام تک پہنچ گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس نے وہاں فوجی اہلکاروں، ہیلی کاپٹروں اور ایک عارضی رن وے کو دیکھا، جس کے بعد اس نے عراقی حکام کو اطلاع دی۔مزید بتایا گیا ہے کہ اطلاع ملنے پر عراقی فوج نے علاقے میں ایک انٹیلی جنس ٹیم بھیجی، تاہم رپورٹ کے مطابق اس ٹیم پر حملہ کیا گیا جس میں ایک عراقی فوجی ہلاک اور دو زخمی ہوگئے، جبکہ فوجی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔
ابتدائی طور پر عراقی حکام نے اسے “غیر ملکی فورسز” کا حملہ قرار دیا، تاہم بعد ازاں جب معاملہ امریکی فوج کے ساتھ اٹھایا گیا تو انہیں بتایا گیا کہ یہ کارروائی امریکی فورسز نے نہیں کی، جس کے بعد شبہ اسرائیل پر ظاہر کیا گیا۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ عراق کی حکومت نے ابھی تک ان خفیہ اڈوں کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، کیونکہ عراق اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات موجود نہیں اور عوامی سطح پر اسرائیل کو مخالف ریاست سمجھا جاتا ہے۔مزید کہا گیا ہے کہ ایک اڈہ 2024 کے آخر میں قائم کیا گیا تھا تاکہ اسرائیلی طیاروں کو ایران تک پہنچنے کے لیے کم فاصلہ طے کرنا پڑے۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا کو ان خفیہ تنصیبات کے بارے میں پہلے سے معلومات حاصل تھیں اور بعض مواقع پر عراق کو ریڈار بند کرنے کی ہدایات بھی دی گئیں، جس سے فضائی نگرانی متاثر ہوئی۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور خفیہ عسکری سرگرمیوں سے متعلق ایک اہم اور سنگین پیشرفت ہوگی۔