جاری جنگ میں ایرانی ڈرون اور امریکی انٹرسیپٹر میں سے کون زیادہ مہنگا ہے؟

جاری جنگ میں ایرانی ڈرون اور امریکی انٹرسیپٹر میں سے کون زیادہ مہنگا ہے؟

ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اور فوجی کارروائیوں سے متعلق مزید معلومات سامنے آ رہی ہیں، جن میں دونوں ممالک کی جنگی حکمت عملی اور استعمال ہونے والے ہتھیاروں پر بھی توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 28 فروری سے شروع ہونے والی ایران کے ساتھ جاری جنگ میں اب تک 17 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔رپورٹس کے مطابق امریکی حملوں کے جواب میں ایران مختلف ممالک میں موجود امریکی تنصیبات اور فوجی اہداف کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنا رہا ہے۔ ایرانی حملوں میں خاص طور پر ’شاہد‘ ڈرونز کا استعمال نمایاں رہا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے تیار کردہ شاہد ڈرونز ایک طرفہ حملوں کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں اور ان کی تیاری پر آنے والی لاگت نسبتاً کم بتائی جاتی ہے۔ ایک شاہد ڈرون کی تیاری پر تقریباً 30 ہزار ڈالرز خرچ ہونے کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔دفاعی ماہرین کے مطابق کم قیمت ہونے کی وجہ سے ایران ان ڈرونز کو بڑی تعداد میں استعمال کر سکتا ہے، جس سے مخالف دفاعی نظام پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔

دوسری جانب ان ڈرونز کو روکنے کے لیے استعمال کیے جانے والے امریکی دفاعی انٹرسیپٹرز کی لاگت کئی گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق بعض انٹرسیپٹرز کی قیمت لاکھوں ڈالرز تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ جدید دفاعی نظام ہمیشہ ہر حملے کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوتا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید جنگوں میں کم لاگت والے ڈرونز نے جنگی حکمت عملی کو تبدیل کر دیا ہے، جہاں نسبتاً سستے ہتھیار مہنگے دفاعی نظام کو مسلسل دباؤ میں ڈال سکتے ہیں۔ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال خطے میں بدلتے ہوئے جنگی رجحانات کی ایک اہم مثال کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔