اسرائیل کے انٹرسیپٹر میزائلز کی تعداد میں خطرناک حد تک کمی، ایران کے حملوں کا دفاع مشکل ہو سکتا ہے: وال اسٹریٹ جرنل

اسرائیل کے انٹرسیپٹر میزائلز کی تعداد میں خطرناک حد تک کمی، ایران کے حملوں کا دفاع مشکل ہو سکتا ہے: وال اسٹریٹ جرنل

ویب ڈیسک: معروف امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے ایک چشم کشا رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کے دفاعی نظام، خصوصاً بیلسٹک میزائلوں کو روکنے والے ایرو انٹرسیپٹر میزائلز (Arrow Interceptors) کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے، جس کے باعث اسرائیل کو ایران جیسے دشمنوں کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل حملوں سے بچاؤ میں شدید مشکلات درپیش ہو سکتی ہیں۔

رپورٹ میں امریکی محکمہ دفاع سے وابستہ ایک نامعلوم عہدیدار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ واشنگٹن کو اس خطرے کا کئی ماہ سے علم تھا اور اسی لیے امریکہ نے اسرائیل کے دفاعی نظام میں معاونت کے طور پر اس کی زمینی، فضائی اور بحری دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔اس سلسلے میں جب اسرائیلی دفاعی افواج (IDF) سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے واضح کیا کہ وہ اسلحے اور گولہ بارود سے متعلق معاملات پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا ایرو سسٹم، جو امریکہ کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے، ایران کے بیلسٹک میزائلز کو فضا میں نشانہ بنا کر تباہ کرنے کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔

 تاہم اگر ان انٹرسیپٹر میزائلز کی فراہمی میں تعطل یا قلت برقرار رہی تو اسرائیل کی ملکی سالمیت خطرے میں پڑ سکتی ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایران اگر ایک منظم اور بیک وقت کئی میزائلوں سے حملہ کرتا ہے، تو موجودہ صورتحال میں اسرائیل کی دفاعی لائنز اوور لوڈ ہو سکتی ہیں، جس سے تباہ کن نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔یہ صورتحال اسرائیل کے لیے نہ صرف سکیورٹی بلکہ سیاسی دباؤ کا بھی باعث بن رہی ہے، کیونکہ ایک طرف امریکہ سے دفاعی مدد کی توقعات وابستہ ہیں، تو دوسری جانب خطے میں ایران اور اس کے اتحادیوں کی جارحانہ حکمت عملی اسرائیل کو مزید دفاعی اقدامات پر مجبور کر سکتی ہے۔