آبنائے ہرمز میں تین آئل ٹینکروں پر حملوں کے بعد امریکا نے ایران کے خلاف ایک بار پھر بڑے پیمانے پر فضائی کارروائیاں شروع کر دی ہیں، جبکہ ایرانی تیل کی فروخت پر دی گئی عارضی رعایت بھی واپس لے لی گئی ہے۔
ان اقدامات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان قائم نازک جنگ بندی ایک بار پھر خطرے میں پڑ گئی ہے۔امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق منگل کو ایران میں 80 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ کارروائی کا مقصد ایران کی سمندری حملوں کی صلاحیت کو کمزور کرنا اور اسے بھاری قیمت چکانے پر مجبور کرنا تھا۔امریکی حکام کے مطابق حملوں میں پاسدارانِ انقلاب کے 60 سے زائد چھوٹے جنگی بحری جہاز، فضائی دفاعی نظام، ساحلی نگرانی کے مراکز، زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل، اینٹی شپ کروز میزائل اور ڈرون لانچنگ سائٹس کو نشانہ بنایا گیا۔دوسری جانب ایرانی میڈیا نے جنوبی ایران کے مختلف علاقوں، جن میں خارگ آئل ٹرمینل، جزیرہ قشم، بندر عباس اور سیریک شامل ہیں، میں دھماکوں کی اطلاعات دی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ایک تجارتی گھاٹ پر نامعلوم میزائل کے ٹکڑے گرنے سے متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ بعض ماہی گیر کشتیوں میں بھی آگ لگ گئی۔ فوری طور پر کسی شہری ہلاکت کی تصدیق نہیں ہوئی۔خارگ آئل ٹرمینل، جہاں سے ایران کی تقریباً 90 فیصد خام تیل کی برآمدات ہوتی ہیں، وہاں بھی دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاعات ہیں، تاہم امریکی فوج نے اس تنصیب کو براہِ راست نشانہ بنانے کی تصدیق نہیں کی۔ایران کے مرکزی فوجی کمانڈ ہیڈکوارٹر خاتم الانبیاء نے امریکی حملوں کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کی دھمکی دی ہے۔ ایرانی فوجی قیادت کا کہنا ہے کہ ایران اپنی خودمختاری اور آبنائے ہرمز کے انتظام میں کسی بھی غیر ملکی مداخلت کو قبول نہیں کرے گا۔
ادھر امریکی حکومت نے ایران کو تیل فروخت کرنے کی عارضی اجازت بھی واپس لے لی ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ نے جون میں جاری کیا گیا جنرل لائسنس منسوخ کرتے ہوئے متعلقہ کمپنیوں کو 17 جولائی تک تمام لین دین ختم کرنے کی مہلت دی ہے۔اس فیصلے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ توانائی کی عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ گئی۔ایران کی وزارت خارجہ نے امریکی اقدامات کو جنگ بندی کے فریم ورک کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کو اس کے نتائج کی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔ وزارت خارجہ کے مطابق ایران اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔اسی دوران قطر نے الزام عائد کیا ہے کہ ایک قطری ایل این جی ٹینکر سمیت دو تجارتی جہازوں پر حملوں میں ایران ملوث ہے۔ قطری حکومت نے اس معاملے پر ایرانی نائب سفیر کو طلب کرکے احتجاجی مراسلہ بھی دیا ہے۔
ایران نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ جن بحری جہازوں نے ایران کے ساتھ رابطہ کیے بغیر متبادل راستے اختیار کیے، انہیں خود خطرات کا سامنا کرنا پڑا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر مستقل معاہدہ نہ ہوا تو امریکا مزید سخت کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ دھمکیوں کے ماحول میں کسی حتمی معاہدے پر مذاکرات ممکن نہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق تازہ امریکی حملوں، ایرانی ردعمل اور تیل پر پابندیوں کی بحالی نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کو ایک بار پھر خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے، جس کے اثرات عالمی توانائی کی منڈی اور بین الاقوامی تجارت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔