محمد عارف صدیقی
کل لاہور کی ایک سڑک سے گزرتے ہوئے دو واقعات نظروں سے گزرے اور دونوں ہی کا تعلق موٹر سائیکل کی سواری سے منسلک تھا سوچا کہ اسی پر قلم اٹھایا جائے ، واقعہ یہ ہے کہ سڑک پر ایک موٹر سائیکل سوار سواری کے دوران بڑے اطمینان کیساتھ موبائل فون پر مسلسل بات کر رہا تھا خیال آیا کہ عوام کے پاس تو اتنا وقت بھی نہیں ہے کہ ٹھہر کر فون ہی سن لیں اور اپنی قیمتی جان کو بھی محفوظ بنائیں ، دوسرا واقعہ بسنت کی تیاری کے سلسلے میں حکومت پنجاب کیطرف سے دیا گیا الٹی میٹم ہے کہ تمام موٹر سائیکل سوار اپنی بائیکس پر سامنے سے ایک انٹینا لگائیں اور اپنی قیمتی جانوں کو دھاتی اور کیمکل ڈور کی زد میں آنے سے بچائیں ورنہ اس پر بھی چالان اور Fir کٹ سکتی ہے چاہیئے تو یہ تھا کہ انٹییناز بھی حکومت فری مہیا کرتی بحرحال اسطرح حکومت پنجاب نے ایک نیا روزگار بھی متعارف کروا دیا اور اب کچھ لوگ سڑک کنارے یہ انٹینے لئے بھی نظر آتے ہیں۔
پنجاب حکومت اس دفعہ پورے جوش و خروش سے بسنت منانے کی تیاریوں میں مصروف ہے اور یہ احکامات اسی تیاری کی ایک کڑی ہے نہ جانے کس کے مشورے پر حکومت پنجاب نے بسنت کے تہوار کو دوبارہ سے منانے کا اعلان کیا ہے جبکہ اسی حکومت نے اپنے سابقہ دور میں اسکو خونی بسنت کا نام دیکر پنجاب میں بسنت پر پابندی لگائی تھی جو کہ ایک مثبت اور خوش آئند فیصلہ تھا اور عوام نے بھی تیس سے زائد انسانی زندگیوں کے ضیاع پر اس پابندی کے فیصلے پر سکھ کا سانس لیا تھا حالانکہ موسم بہار اور اسکی موسمیاتی تبدیلی کو مثبت سرگرمیوں اور تفریحی پروگرامات کے زریعے سے بھی نمایاں کیا جا سکتا ہے جسمیں بالخصوص نوجوانوں میں تعمیری سوچ کیساتھ کھیلوں کو فروغ دے کر انکے اندر ذہنی و جسمانی صلاحیتوں کو بھی پروان چڑھایا جا سکے جیساکہ کراچی میں جماعت اسلامی اور الخدمت فاؤنڈیشن نوجوان طلبہ وطالبات میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ دینے کیلئے وہاں "کراچی اولمپکس" کا انعقاد کر رہی ہے یقیناً اس سے کھیل کے میدان بھی آباد ہونگے اور نوجوانوں کی ذہنی و جسمانی نشوونما کے ساتھ ایک صحت مند تفریح بھی ملے گی، بڑی تعداد میں نوجوان اس ایونٹ میں اپنی رجسٹریشن کے زریعے سے دلچسپی کا اظہار بھی کر رہے ہیں اور یہ امیر جماعت اسلامی انجینئر حافظ نعیم الرحمن کے"صحت مند نوجوان مضبوط پاکستان" ویڑن کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ ہم فاتح کھلاڑیوں کو نیشنل لیول پر ریکگنائز بھی کرائیں گے یقیناً یہ ایک قابلِ ستائش اقدام ہے جیسے کہ کہا جاتا ہے کہ جہاں کھیل کے میدان آباد ہوں وہاں کے ہسپتال ویران ہو جاتے ہیں تو اس تناظر میں حکومت پنجاب کو بھی اسی طرح کی مثبت سرگرمیوں کو فروغ دینا چاہیے لاہور میراتھن ریس اور دوڑ لاہور دوڑ جیسے ایونٹس نوجوانوں میں آج بھی مقبول ہیں وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز صاحبہ کچھ کرنے کا عزم رکھتی ہیں تو کراچی کیطرح لاہور میں بھی
"لاہور اولمپکس" کا اعلان کریں جس سے نوجوانوں میں نہ صرف یہ کہ مایوسی ختم ہو گی بلکہ فزیکل ایجوکیشن کے ذریعے سے صحت مند تفریح کیساتھ ساتھ کھیلوں کو بھی فروغ ملے گا اور مقابلہ جاتی کھیلوں کے زریعے سے نوجوانوں کی ذہنی و جسمانی صحت پر بھی اچھے اثرات مرتب ہونگے۔
نیز آئیندہ "لاہور اولمپکس بمقابلہ کراچی اولمپکس" کا انعقاد بھی کیا جا سکتا ہے جس سے دونوں بڑے شہروں کے عوام بالخصوص نوجوانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ باہم جوڑنے ،ان میں تحمل و برداشت بڑھانے اور بین الصوبائی ثقافت کو بھی پروان چڑھانے میں مدد ملے گی۔ بحرحال کھیل کے میدان آباد رہنے چاہئیں اور نوجوانوں کو فزیکل ایجوکیشن کے زریعے سے یہ مواقع بھی ملنے چاہیئے تاکہ صحتمند و تعمیری سوچ پروان چڑھے مایوسی اور اندھیرے کم ہوں اور چراغ امید روشن ہو اس مقولے کے مصداق کہ
اگر کھیلے گا نوجوان
تو آگے بڑھے گا پاکستان