طلعت بٹ
جب کوئی پاکستانی پردیس میں قدم رکھتا ہے تو ذہن میں میں دو سوچیں ہوتی ہیں۔ ایک روزی کی، دوسری یہ کہ "مشکل وقت میں اپنا کون ؟روم میں مقیم پاکستانیوں کے لیے یہ جواب ! گزشتہ کچھ عرصے سے ایمبیسی کی کارکردگی نے یہ ثابت کیا ہے کہ سفارتخانہ صرف فائلوں اور مہروں کا نام نہیں،بلکہ یہ خدمت کا دوسرا نام بھی ہے۔پاسپورٹ،شناختی کارڈ،ویزا اور قانونی معاملات میں وہ زہر ھیں جو پردیسی کا حوصلہ توڑ دیتے ہیں۔روم ایمبیسی نے ڈیجیٹل سہولیات اور عملے کی مہربانی سے اس زہر کو شہد میں بدل دیا ہے۔ فون اٹھانا،رہنمائی کرنا،اور مسئلہ حل کرنا روم ایمبیسی کی روایت بن چکا ہے۔
تقریبات،یومِ پاکستان، یومِ آزادی،اور کمیونٹی میٹنگز میں ایمبیسی کا کردار قابلِ تحسین ہے۔یہاں پاکستانی کو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ تنہا نہیں،اس کے سفارتکار اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔بیرونِ ملک وطن کا روپ ایک سفارتخانہ ہوتا ہے۔روم ایمبیسی کے عملے کا شائستہ رویہ،پروفیشنلزم اور پاکستان کا جھنڈا سربلند رکھنے کا جذبہ قابلِ فخر ہے۔لفظ چھوٹا ہے پر جذبات بڑے ہیں۔ سفارت خانہ پاکستان کے عملے کے ہر فرد کا دل سے شکریہ جنہوں نے روم میں پاکستانیوں کے لیے گھر جیسا ماحول بنایا ہوا ھے۔وطن سے دور رہ کر جب کوئی اپنا ہمدرد ملتا ھے تو پردیس بھی پردیس نہیں لگتا ! کہتے ہیں پردیس میں اپنا کوئی نہیں ہوتا۔روم کی پاکستانی ایمبیسی نے یہ جملہ جھوٹا کر دکھایا۔یوں کہنا غلط نہیں ہو گا کہ، یہاں عملہ نہیں خاندان بیٹھا ہے۔اور خدمت خالی ایک لفظ نہیں۔کاؤنٹر پر جوبھی بیٹھا و وہ صرف دستخط نہیں کرتا،حوصلہ دیتا ہے۔بزرگ کی فائل خود چیک کرتا ہے۔ماں کے بچے کو گود میں لے کر فارم بھرتا ہے۔مزدور کی اردو نہ سمجھ آئے تو اشاروں سے سمجھاتا ہے۔ہر بار ایک قدم آگے۔گرمی ہو یا بارش،گیٹ پر رہنمائی کے لیے بندہ موجود، لائن لمبی ہو جائے تو چائے پانی کا پوچھتے ہیں۔ٹوکن سسٹم ایسا کہ بندہ ذلیل نہیں ہوتا۔وقت پر بلاوا آتا ہے،کام کے ہو جانے پر نکلتا ہے، پاسپورٹ کا مسئلہ ہو،ویزے کی الجھن ہو،ایمرجنسی ٹریول ڈاکیومنٹ چاہیے ہوں جواب ہمیشہ"ہو جائے گا"نہیں ہو سکتا" والا لفظ ان کی ڈکشنری میں نہیں۔رات 12 بجے میل کریں، صبح جواب حاضر۔نہ کوئی سفارش،نہ کوئی لین دین۔صرف پاکستانی ہونے کا ناطہ ہی کافی ہے۔یہی وجہ ہے کہ روم کا ہر پاکستانی، چاہے وہ ڈاکٹر ہو یا ڈش واشر، ایمبیسی کا نام عزت سے لیتا ہے۔سفارتخانہ وہی کامیاب ہے جہاں کے گارڈ سے لیکر ایمبیسیڈر تک اپنا لگے۔روم ایمبیسی کا ہر فرد چوکیدار سے لے کر افسر تک، یہ ثبوت ہے۔آپ نے ثابت کر دیا کہ وطن کی نمائندگی دیار غیر میں صرف پرچم لہرانے سے نہیں اپنی کمیو نیٹی کے مسائل کے بر وقت حل سے ہوتی ہے۔پاکستانی ایمبیسی روم کا اصل چراغ عملہ ہے۔ عمارت اینٹ پتھر کی، روح عملے کی ہے۔پردیس میں سفارتخانہ بس دفتر نہیں ہوتا۔ وہ امید کا آخری دروازہ ہوتا ہے۔ روم کی پاکستانی ایمبیسی کا عملہ اس دروازے کو سینے سے لگائے کھڑا ہے۔کاؤنٹر پر بیٹھا بندہ تھکا نہیں لگتا۔ فائل پھینکتا نہیں، سمجھاتا ہے۔ "یہ کاغذ ادھر لگے گا" کہنے کے بجائے "بھائی یہاں دستخط کر دیں" کہتا ہے۔عزت ملتی ہے تو پردیس بھی اپنا لگتا ہے۔ٹوکن نمبر آواز دیتا ہے تو عملہ آنکھ اٹھا کر دیکھتا ہے۔ بزرگ آ جائیں تو لائن سے پہلے بلاتے ہیں۔بچہ رو پڑے تو کام روک کر مسکرا دیتے ہیں۔جلدی میں نہیں، بندے میں ہیں۔پاسپورٹ گم،ویزہ کا مس?لہ، ایمرجنسی پڑ گئی ہو۔ بس فون اٹھتے ہی معاملا بیان کرنے کے بعد پریشان نہ ہوں، والا جملہ سننے کو ملتا ھے۔ رات گئے میل کا جواب آ جائے تو لگتا ہے ملک جاگ رہا ہے۔نہ کوئی نام اخبار میں آتا ہے، نہ تصویر لگتی ہے۔ لیکن جس مزدور کا NICOP وقت پر بن گیا، جس ماں کے بچے کا ویزہ لگ گیا،جس طالبعلم کا سرٹیفیکیٹ اٹیسٹ ہو گیا وہ سب دعا میں ان چہروں کو یاد رکھتے ہیں۔چنانچہ سفارتکاری صرف بڑے بڑے معاہدوں کا نام نہیں۔ بلکہ یہ نام ھے اس بات کا کہ یہ ایک اورسیز کو یہ محسوس نہ ہونے دے کہ وہ پردیس میں اکیلا ہے۔روم کی پاکستانی ایمبیسی کا عملہ سلام کا مستحق ہے۔آپ نے پردیس میں پاکستان کا سر بلند رکھا ہے۔سلام ہے روم کی پاکستانی ایمبیسی کے خدمت گزار عملہ خوب ہیں، اور خوب سے بھی خوب تر ہیں۔کسی بھی سفارتخانے کی اصل کامیابی فائلوں کی رفتار نہیں، بلکہ چہروں کی مسکراہٹ ہے۔اور اس معاملے میں روم ایمبیسی کے عملے نے دل جیت لیے ہیں۔کاؤنٹر پر کھڑے ہر فرد کا رویہ، فون پر ملنے والی رہنمائی،اور بزرگوں خواتین اور بچوں کے ساتھ احترام سے پیش آنا ان کا شیوا ھے یہ سب چیزیں بتاتی ہیں کہ یہاں اپنوں والا احساس ہوتا ہے۔مشکل میں پھنسے شہری جب مایوس ہو کر آتا ہے تو عملے کا ایک جملہ "فکر نہ کریں، ہم ہیں نا" آدھا مسئلہ وہیں حل کر دیتا ہے۔کسی کا پاسپورٹ جلدی چاہیے، کسی کو قانونی رہنمائی درکار ہے، کسی کا بچہ بیمار ہے ہر معاملے کو اپنی ذمہ داری سمجھ کر نبھانا، یہی اصل سفارتکاری ہے۔یہ حسنِ سلوک ہی ہے جو پردیس میں وطن کی خوشبو دیتا ہے روم ایمبیسی کے تمام افسران اور عملے کے ہر فرد کو دل کی گہرائیوں سے سلام اور شکریہ۔ آپ نے ثابت کیا کہ عہدہ بڑا نہیں ہوتا، کردار بڑا ہوتا ہے۔