گل پلازہ میں آتشزدگی کے بعد مفتی تقی عثمانی نے شدید تشویش کا اظہار کیا اور سوال اٹھایا کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں آگ پر قابو پانے میں ناکامی کیوں ہوئی، امدادی کارروائیاں بروقت کیوں نہیں ہو سکیں اور انسانی جانوں کا نقصان کیوں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ چند گھنٹوں میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور متعدد تاجروں کو اربوں روپے کا نقصان ہوا۔مفتی تقی عثمانی نے غیر جانبدار اور بے لاگ تحقیقات پر زور دیا اور حفاظتی انتظامات کو مضبوط کرنے کی ضرورت بیان کی۔ انہوں نے جاں بحق افراد اور لواحقین کے لیے دعائیں بھی کیں۔اسی طرح، مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ گل پلازہ کی آگ نے سندھ حکومت کے دعووں کو چیلنج کر دیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ 3 کروڑ آبادی کے شہر میں آگ بجھانے کا مؤثر نظام کیوں موجود نہیں، جبکہ سانحے میں کم از کم 3 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ مفتی منیب الرحمن نے جاں بحق افراد کی مغفرت اور متاثرین کے لیے بہتر نعم البدل کی دعا بھی کی۔