ممتاز عالمِ دین مفتی تقی عثمانی نے کہا ہے کہ اسرائیل کو پہلی مرتبہ بمباری کی شدت کا احساس ہوا ہے، جو اس کے جارحانہ عزائم کا براہِ راست نتیجہ ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ ایران، اسرائیلی جارحیت کے باوجود نہ صرف ڈٹا ہوا ہے بلکہ مؤثر اور مضبوط جواب بھی دے رہا ہے، جس سے اسرائیل کو بھاری نقصان کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمِ اسلام کے خلاف اسرائیلی عزائم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں، اور قدرت نے ایک بار پھر موقع دیا ہے کہ تمام مسلم ممالک متحد ہو کر اسرائیلی خطرے کا منظم اور مستقل حل نکالیں۔مفتی تقی عثمانی کا کہنا تھا کہ یہ وقت جذباتی نعروں کا نہیں بلکہ عملی اتحاد اور مؤثر حکمت عملی اپنانے کا ہے تاکہ فلسطینی عوام اور مسلم دنیا کو درپیش خطرات کا سامنا کیا جا سکے۔