تھیٹر انڈسٹری سے وابستہ معروف اداکاراؤں نے انتظامیہ کی جانب سے بلاجواز نوٹسز جاری کیے جانے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلسل نگرانی اور سخت رویے فنکاروں کو شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کر رہے ہیں۔
اداکاراؤں کا کہنا ہے کہ تھیٹر ایک لائیو میڈیم ہے جہاں اسٹیج پر براہِ راست پرفارمنس کے دوران بعض اوقات غیر ارادی غلطیاں ہو جانا فطری امر ہے، تاہم ان معمولی باتوں کو بنیاد بنا کر نوٹسز جاری کرنا ناانصافی کے مترادف ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ متعلقہ اداروں کو انہیں عام ملازم کے بجائے فنکار سمجھنا چاہیے اور کام کے دوران مناسب مارجن دینا چاہیے۔اداکارہ نازلی نور نے مانیٹرنگ ٹیموں کے رویے کو توہین آمیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا ہے جیسے وہ کوئی جرم کر رہی ہوں، جس سے فنکاروں کی عزتِ نفس مجروح ہوتی ہے۔ اداکارہ فیروزہ علی کا کہنا تھا کہ تھیٹر میں اب مثبت تبدیلی آ چکی ہے اور بڑی تعداد میں فیملیز شوز دیکھنے آ رہی ہیں، اس کے باوجود بلاوجہ نوٹسز جاری کر کے ایک ابھرتی ہوئی انڈسٹری کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔
اداکارہ نایاب علی نے مطالبہ کیا کہ لائیو پرفارمنس کے دوران ہونے والی معمولی اور غیر ارادی غلطیوں کو نظرانداز کیا جانا چاہیے، جبکہ اداکارہ سلک کے مطابق ماضی کے مقابلے میں اب تھیٹر کا ماحول کافی بہتر ہو چکا ہے اور پہلے جیسی صورتحال اب موجود نہیں رہی۔اداکاراؤں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ تھیٹر انڈسٹری کو بلاوجہ دباؤ میں لانے کے بجائے اس کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ فنکار ذہنی سکون کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکیں اور تھیٹر کا مثبت تشخص مزید مضبوط ہو۔