ایوان کو مضبوط کرینگے‘پاکستان مظاہروں اور تحریکوں کا متحمل نہیں ہوسکتا محمود اچکزئی

  پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے مشکل وقت کا ساتھی رہا ہوں، ہم بکنے والے لوگ نہیں،  آج تک اپنے حلف کی خلاف ورزی نہیں کی‘  بانی  سے ملاقاتوں پر پابندی ختم  کی جائے
عہدے کیلئے نواز شریف یا کسی اور سے رابطہ نہیں کیا‘ مثبت قانون سازی میں مکمل تعاون ہوگا جبکہ منفی قوانین پر معذرت کی جائے گی:اپوزیشن لیڈرکا عہدہ سنبھالنے کے بعد خطاب
اسلام آباد(آن لائن )قومی اسمبلی کے اجلاس میں محمود خان اچکزئی کی ایوان آمد پر اپوزیشن ارکان نے ڈیسک بجا کر ان کا بھرپور استقبال کیا۔ محمود خان اچکزئی نے باقاعدہ طور پر اپوزیشن لیڈر کی نشست سنبھال لی، جس کے بعد مختلف ارکان اسمبلی نے ان سے جا کر ملاقات کی۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ جب بھی عوامی فلاح کی بات ہوگی، ان کے ووٹ ساتھ ہوں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایوان کے اندر اور باہر ایسی زبان استعمال نہ کی جائے جو خاندان کے سامنے کہنے کے قابل نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ وہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے مشکل وقت کے ساتھی رہے ہیں، ہم بکنے والے لوگ نہیں، اور انہوں نے آج تک اپنے حلف کی خلاف ورزی نہیں کی۔انہوں نے اسپیکر ایاز صادق سے ملاقات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ارکان کو بولنے دیا جائے، آخر ہم تنخواہ کس بات کی لیتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر یہ ایوان ان افراد کے لیے قرارداد پاس کرے جن کے خلاف مقدمات درج ہیں یا جیلوں میں قید افراد کے کیسز واپس لینے کی بات کرے تو کیا آسمان گر جائے گا؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں پر پابندی فوری ختم کی جائے تاکہ ان کی بہنیں ان سے مل سکیں۔محمود خان اچکزئی نے میڈیا رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کسی عہدے کے لیے نواز شریف یا کسی اور سے رابطہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف ان کے دوست ہیں اور بلاول بھٹو ان کے بچوں کی طرح ہیں۔ انہوں نے حکومت کو یقین دلایا کہ مثبت قانون سازی میں مکمل تعاون ہوگا جبکہ منفی قوانین پر معذرت کی جائے گی۔اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ یہ ایوان انہیں بہت پیارا ہے اور عزت و احترام کی بنیاد پر انہیں حزب اختلاف کا لیڈر منتخب کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان وعدہ کرتی ہے کہ اگر ایوان کو مضبوط کرنے کی کوشش کی گئی تو حکومت کو غیر مشروط تعاون فراہم کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایوان پاکستان کی پالیسیوں کا مرکز ہونا چاہیے، ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے، اور ملک اس وقت کسی احتجاجی سیاست کا متحمل نہیں ہو سکتا۔