وزیر اعظم شہبازشریف کی نوازشریف سے ملاقا ت، آزاد کشمیر کے سیاسی امور پر مشاورت
جاتی امرا لاہور میں اہم ملاقات دو گھنٹے جاری رہی،آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم کے انتخاب کے معاملے پر بھی طویل غور، شاہ غلام قادر اور طارق فاروق میں سے کسی ایک کا نام حتمی کیے جانے کا امکان ہے
وزیراعظم نے میاں نواز شریف کو بانی پی ٹی آئی کو شفا ہسپتال کے بجائے پمز چیک اپ کی وجوہات سے آگاہ کیا۔ توہین عدالت کی درخواست پر مشاورت ، وزیراعلیٰ مریم نواز بھی ملاقات میں شریک ہوئیں
لاہور(آئی این پی )مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان جاتی امرا لاہور میں اہم ملاقات ہوئی، جس میں ملکی سیاسی صورتحال اور آزاد کشمیر کے سیاسی امور پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ذرائع کے مطابق ملاقات تقریبا دو گھنٹے جاری رہی، جس میں آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم کے انتخاب کے معاملے پر بھی طویل غور کیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر کے وزیراعظم کے عہدے کے لیے شاہ غلام قادر اور طارق فاروق کے نام سامنے آئے ہیں، جبکہ دونوں رہنمائوں میں سے کسی ایک کا نام حتمی کیے جانے کا امکان ہے۔ملاقات میں آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال اور آئندہ کی حکمت عملی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دو گھنٹے طویل ملاقات کے ایجنڈے میں سرفہرست سپریم کورٹ کا بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال شفٹ کرنے کا فیصلہ رہا۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے میاں نواز شریف کو بانی پی ٹی آئی کو شفا ہسپتال کے بجائے پمز چیک اپ کی وجوہات سے آگاہ کیا۔ملاقات میں سیاسی حکمت عملی اور قانونی آپشنز پر مشاورت کی گئی، پی ٹی آئی کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست اور اس کے قانونی جواب کے حوالے سے بھی مشاورت ہوئی۔ذرائع کے مطابق صدر ن لیگ میاں نواز شریف نے کہا کہ پاکستان مزید کسی سیاسی و آئینی بحران کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ملاقات میں آزاد کشمیر کے وزیراعظم کے لیے مختلف نام بھی زیر غور آئے، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز بھی ملاقات میں شریک ہوئیں۔