چین پاکستان کا بہترین دوست ملک ہے جو مشکل کی ہر گھڑی میں ساتھ کھڑا رہا ، سی پیک پا کستانی معیشت کی مضبوطی کیلئے گیم چینجر ثابت ہوا ، اب منصوبے کے فیز ٹو کے آغاز کے منتظر ہیں :وزیراعظم

 چین اور پاکستان ایک خاندان کی طرح ہیں شہبازشریف
پاکستان اور چین کا  تعلق راتوں رات نہیں بنا ، ہم چینی صدر شی جن پنگ کو پاکستان کے دورے پر دیکھنا چاہتے ہیں، وہ ہمارے سب سے معزز مہمان ہوں گے‘ گذشتہ کچھ عرصے میں کامیابیاں حاصل کی ہیں لیکن ابھی سفر بہت طویل ہے 
زراعت پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ، اس کی صلاحیت لامحدود ہے‘جدید ٹیکنالوجی اور طریقوں کے ذریعے  زراعت کی پیداوار میں اضافہ موجودہ وقت کا تقاضا ہے:انویسٹمنٹ کانفرنس سے خطاب
وزیراعظم  شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کی معیشت ترقی کی جانب گامزن ہے‘ شہباز شریف کے چین کے دوروں کے دوران کئے جانے والے فیصلوں پر عملدرآمد تیز کریں گے:چینی سفیر  جیانگ ژائی ڈونگ
اسلام آباد ( ٓان لائن) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے  چین پاکستان کا بہترین دوست ملک ہے جو مشکل کی  ہر گھڑی میں ساتھ  کھڑا رہا ہے ،  سی پیک پا کستانی معیشت کی مضبوطی کے لئے گیم چینجر ثابت ہوا ، اب ، منصوبے  کے فیز  ٹو کے آغاز کے منتظر ہیں ۔ زراعت پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ، اسکی صلاحیت لامحدود ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور طریقوں کے ذریعے  زراعت کی پیداوار میں اضافہ موجودہ وقت کا تقاضا ہے ۔ پاک چائنہ  انویسٹمنٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوے انہوں نے کہا  اس عظیم تقریب میں شرکت میرے لئے باعث اعزاز ہے ۔  زراعت ، تجارت ، سرمایہ کاری  اور برآمدات  کے فروغ کے لئے اس فورم کا انعقاد کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا  پاکستان بنیادی طورپر ایک زرعی معیشت ہے ۔ ہماری پینسٹھ فیصد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے ‘ زراعت پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ، اسکی صلاحیت لامحدود ہے ۔ زرعی معیشت کے لئے ہمیں منظم ہو کر کام کرنا ہو گا ۔ ائنسدانوں ، زرعی ماہرین کی معاونت  سے زرعی پیداوار میں بہتری لانی ہے۔  جدید ٹیکنالوجی اور طریقوں کے ذریعے  زراعت کی پیداوار میں اضافہ موجودہ وقت کا تقاضا ہے ۔  طے کرنا ہو گا پانی کا بہتر استعمال کیسے ممکن بنائیں ۔ انہوں نے کہا  ہماری زمہ داری ہے کہ زیادہ پیداوار کے ذریعے تجارتی سرپلس حاصل کریں ۔ن کا کہنا تھا کہ کئی سالوں سے اس شعبے میں کام کر رہے ہیں لیکن اب بھی بہت کچھ کرنا ہے، چین پاکستان کا تاریخی دوست ہے، 2024 میں چین میں بزنس ٹو بزنس فورم کا انعقاد کیا جہاں دونوں ممالک کے سرمایہ کاروں نے ایم ایو یوز پر دستخط کیے، ان مفاہمتی یادداشتوں کے عملی اطلاق پر کام کررہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان سے ایک ہزار طلبا کو زراعت کے شعبے میں کام کرنے کے لیے چینی اداروں میں بھیجا، مجھے یقین ہے کہ وہ پاکستان میں زراعت میں پیشرفت پر کام کریں گے۔ چین نے مصنوعی ذہانت، ایکسپورٹس اور ٹیکنالوجی میں بھرپور ترقی کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ چین اور پاکستان ایک خاندان کی طرح ہیں، اور یہ تعلق راتوں رات نہیں بنا ہے، ہم چینی صدر شی جن پنگ کو پاکستان کے دورے پر دیکھنا چاہتے ہیں، وہ ہمارے سب سے معزز مہمان ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ کچھ عرصے میں کامیابیاں حاصل کی ہیں لیکن ابھی سفر بہت طویل ہے ۔  ھال ہیں میں شیندونگ اور  بیجنگ میں ہونے والے ایم او یوز پر جائزہ اجلاس منعقد کیا گیا ۔ دنیا کو درپیش چیلنجز کے باوجود  چین  تسلسل سے شرح نمو حاصل کر رہا ہے ۔ چین  ایک بار پھر زراعت ، اے آئی اور  دیگر شعبوں میں تعاون  فراہم کرنے کے لئے تیار ہے ۔ چین پاکستان کا دوست ملک اور مشکل کی ہر گھڑی میں ہمارے ساتھ  کھڑا رہا ہے ۔  انہوں نے کہا پاکستان اور چین کی دوستی شہد سے میٹھی اور فولاد سے زیادہ مضبوط ہے   سی پیک گیم چینجر ثابت ہوا اور اب سی پیک 2.0 کے منتظر ہیں ۔  وزیراعظم نے کہا نوجوان ہمارا مستقبل ہیں اور پاکستان کے نوجوان روشن کل کی امید ہیں ۔  ایک ہزار سے زائد گریجویٹس کو زرعی میں شعبے میں تربیت کے لئے چین  بھیجا ۔ امید ہے یہ نوجوان کھیتوں میں جا کر کسانوں کو تربیت دیں گے ۔ اور زراعت کے شعبے کی ترقی کے لئے کردار ادا کریں گے ۔  تقریب سے خطاب کرتے ہوے چینی سفیر  جیانگ ژائی ڈونگ نے  کہاپاکستان چین زرعی  تعاون کے حوالے سے گفتگوکے لئے اکٹھا ہونا انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ عالمی اقتصادی ترقی میں ہمارا حصہ تقریبا تیس فیصد ہے ۔ چین نے دنیا  کے دیگر ممالک کے لئے ترقی کے نئے مواقع  پیدا کئے ۔  انہوں نے کہا  وزیراعظم  شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کی معیشت ترقی کی جانب گامزن ہے ہم   وزیراعظم شہباز شریف کے چین کے دوروں کے دوران کئے جانے والے فیصلوں پر عملدرآمد تیز کریں گے ۔  سیکیورٹی تعاون اور حفاظتی اقدامات میں تعاون کو بھی مضبوط بنائیں گے ۔