عمران خان کے وکیل فیصل چودھری کا بیان
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے وکیل فیصل چودھری نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے متعدد اہم نکات پر روشنی ڈالی:
مذاکراتی عمل اور عمران خان کے کیسز
فیصل چودھری نے واضح کیا کہ عمران خان نے خود یہ بات کہی ہے کہ ان کے کیسز کا مذاکراتی عمل سے کوئی تعلق نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ مذاکرات ملک کے وسیع تر مفاد میں ہو رہے ہیں اور انہیں کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا چاہیے۔
فیئر ٹرائل کی اپیل
وکیل نے کہا کہ عمران خان اور ان کی جماعت اپنے کارکنوں کے لیے کوئی خصوصی رعایت نہیں چاہتے، لیکن انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے فیئر ٹرائل کا حق ضرور دیا جانا چاہیے۔
سپریم کورٹ اور جوڈیشل کمیشن کے مطالبات
فیصل چودھری نے کہا کہ سپریم کورٹ کے انتظامی معاملات کو غیر ضروری تنقید کا نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ توہین عدالت کی کارروائی ایڈیشنل رجسٹرار اور الیکشن کمیشن کے ممبران کے خلاف ہونی چاہیے۔وکیل نے مزید کہا کہ جوڈیشل کمیشن کے مطالبے پر عمل نہ ہونے کی صورت میں مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔
حکومتی کمیٹی پر تنقید
فیصل چودھری نے الزام لگایا کہ حکومتی کمیٹی اپنے غلط اقدامات چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے مسائل پر پردہ ڈالنے کی کوشش مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
ملاقات کا مطالبہ
فیصل چودھری نے درخواست کی کہ جمعرات کو عمران خان اور پارٹی رہنماؤں کی ملاقات ایک کھلی اور مناسب جگہ پر کروائی جائے۔یہ بیان موجودہ سیاسی صورتحال میں عمران خان کے قانونی دفاع، مذاکراتی عمل، اور سپریم کورٹ کے کردار پر روشنی ڈالتا ہے۔