بائیڈن بائے،ٹرمپ ویلکم

واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک ) امریکی صدر جو بائیڈن کا اقتدار اختتام کو پہنچا اور ڈونلڈ ٹرمپ آج 47ویں امریکی صدر کا حلف اٹھا رہے ہیں ، جوبائیڈن نے بطور امریکی صدر اپنے آخری دن سزا یافتہ 5 افراد کو معافی دے دی۔وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکی صدر بائیڈن نے 2 سزا یافتہ افراد کی سزاؤں میں تبدیلی بھی کی ہے۔خبر ایجنسی کے مطابق معافی پانے والوں میں ڈیرل چیمبرز، مارکس موسیہ، رویداتھ راگبیر، ڈان لیونارڈ اور کیمبا اسمتھ شامل ہیں۔امریکی صدر بائیڈن نے 2 افراد کی سزا میں کمی کا بھی اعلان کیا، سزا میں کمی ہونے والے افراد میں رابن پیپلز اور مشیل ویسٹ شامل ہیں۔ کینیڈا کے راستے واشنگٹن پہنچنے والی منجمد قطب شمالی کی برفانی ہوائوں نے امریکا کے 47ٓ ویں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ امریکا کی عالمی شہرت یافتہ اور جمہوریت کی علامت گنبد والی عمارت کیپٹل ہل کیباہر آج ہونیو الی عوامی تقریب حلف برداری اب نہ صرف اس عمارت کے اندر منعقد ہوگی بلکہ دعوت ناموں کے باوجود بہت سے شرکاء￿  کیلئے داخلہ کے امکانات نہیں ہیں،اس تقریب کے اختتام پر عیسائی، یہودی اور مسلم مذہبی رہنمادعا بھی کریں گے، بھارتی وزیرخارجہ جے شنکر وزیراعظم مودی کی نمائندگی کرینگے۔ تاز ہ تفصیلات کے مطابق کئی عشروں کے بعد حلف برداری کے روز اتنی شدید سردی اور بے رحم برفانی ’’آرٹک‘‘ ہوائوں کے اضافی اثر کے موسم نے نہ صرف کئی اہم شخصیات کو شرکت سے روک دیا ہے بلکہ واشنگٹن میں 3ٓ تا 4ٓ لاکھ شہریوں کے متوقع اجتماعات اور شاہراہوں پر ہونیوالی تقریبات کو بھی متاثر کیا ہے۔ حلف برداری کی تقریب کے بارے میں ملنے والی تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے جج بریٹ کو اناگ نائب صدر جے ڈیوینس سے حلف لیں گے۔ جسٹس کواناگ کو صدر ٹرمپ نے اپنی صدارت کی پہلی ٹرم کے دوران نامزد کیا تھا۔ اس کے بعد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جان رابرٹس صدر ٹرمپ سے حلف برداری لیں گے۔ اس تقریب حلف برداری کا آغاز ریاست منی سوٹا کی ڈیموکریٹ سینیٹر ایمی کل بچر اس تقریب کی کمیٹی کی سربراہ کے طور پر آغاز کریں گی اور نائب صدر اور صدر ٹرمپ کے حلف وفاداری اور سبکدوش ہونیو الے صدر بائیڈن کی رخصتی کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ امریکا کے 47ٓ ویں صدر کی حیثیت سے اپنی انتظامیہ کی ٹیم کے اہم نامزد کردہ ناموں کی فہرست پر دستخط کرکے انہیں سرکاری حیثیت دیں گے اس کے علاوہ بعض روایتی اور ضروری دستاویزات پر بھی دستخط کریں گے۔ اس کے علاوہ دنیا بھرکی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ صدارت کا عہدہ سنبھالتے ہی صدر ٹرمپ کن امور پر ایگزیکٹو آرڈرز جاری کرتے ہیں۔ توقع ہے کہ صدر ٹرمپ جن امور پر ایگزیکٹو آرڈرز جاری کریں گے ان میں امیگریشن، ٹک ٹاک کی بندش کو ملتوی کرنے کے بارے میں آرڈرز بھی شامل ہیں۔ ٹک ٹاک کے موجودہ چیف ایگزیکٹو شوچو اور متوقع نئے امریکی خریدار ایلون مسک دونوں ہی صدر ٹرمپ کی تقریب حلف وفاداری میں شریک ہوں گے۔ اس تقریب کے بعد صدر ٹرمپ ایک لنچ میں بھی شرکت کریں گے اور پھر صدر ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد کی روایات اور تقریبات کا آغاز ہوگا۔ تقریب میں امریکا کے مختلف مذاہب کے قائدین منتخب کئے جانے والوں میں امریکا میں قائم یشیوا یونیورسٹی کے یہودی ربی ڈاکٹر اری برمن، آرچ بشپ آف نیویارک ٹموتھی کارڈینل ڈوان، ریانڈ فرینکلن ڈوان شامل ہیں جبکہ عراقی نثاد امریکن امام حشام اطینی جو مشی گن ریاست میں قائم کربلا اسلامک ایجوکیشن سینٹر اور مسجد کے بانی امام اور سربراہ ہیں مسلمانوں کی جانب سے دعائیہ کلمات کہیں گے۔ صدر ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب میں دولت مندبزنس مینوں کے شرکت اور کئی کئی ملین ڈالرز کے عطیات کی خبریں شائع ہوچکی ہیں آخری تفصیلات کے مطابق ٹک ٹاک کی بندش کے بعد ناموں کے اضافہ میں ٹک ٹاک کے موجودہ سی ای او شوچائو اور متوقع نئے امریکی خریدار ایلون مسک، گوگل کے سربراہ سندر بچائی، میٹا کے ذکر برگ، ایمزون کے جیف بیزو، ایپل کے ٹم کک، اوبر کے دارا خسرو شاہی اور آرٹیفیشل انٹلی جنس کے سام الٹسین بھی شامل ہیں جبکہ چین کے نائب صدر بھی اس تقریب میں شریک ہوں گے۔ صدر ٹرمپ اپنے عہدے کا آغاز امریکا کے متمول ترین اور کاروباری شخصیات کے تعاون سے آغاز کررہے ہیں لیکن ساتھ ہی امیگریشن کے ایجنڈے پر عمل کا آغاز بھی ہے اور عالمی سطح پر ان کو متعدد چیلنجوں کا سامنا ہے۔