تفصیلات: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی جانب سے 2024 کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر کی گئی درخواست کی سماعت ہوئی۔
جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 6 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ پی ٹی آئی کے وکیل حامد خان نے عدالت میں کہا کہ اس معاملے پر سوموٹو ایکشن ابھی تک نہیں لیا گیا، جس پر جسٹس جمال خان مندوخیل نے تنبیہ کی کہ حامد صاحب آپ سینئر وکیل ہیں، لہٰذا اپنے الفاظ کا چناؤ احتیاط سے کریں۔
کیس کی سماعت کے دوران اہم نکات:
حامد خان نے کہا کہ یہ عدالت کی کمزوری ہے کہ ابھی تک اس معاملے پر سوموٹو نہیں لیا گیا۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ الیکشن کمیشن جانبدار ہے تو آپ کو متعلقہ فورم پر جانا چاہیے تھا۔جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا پورے خیبرپختونخوا سے بلوچستان تک تمام انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی؟ اور کہا کہ ہر حلقہ کی علیحدہ انکوائری ہوگی، جہاں ہر امیدوار کو اپنے حلقے کے الزامات بتانے ہوں گے۔جسٹس محمد علی مظہر نے ہدایت کی کہ وکیل حامد خان آئندہ سماعت پر تیاری کے ساتھ آئیں۔حامد خان نے کہا کہ وہ صرف اعتراضات دور کرنے آئے تھے، لیکن عدالت میرٹ پر بات کر رہی ہے۔عدالت نے بانی پی ٹی آئی کے وکیل کو رجسٹرار آفس کے اعتراضات پر تیاری کے لیے وقت دے دیا اور سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
معاملہ کی نوعیت: اس کیس میں الیکشن کمیشن کے طریقہ کار، انتخابی فارموں کی درستگی، اور انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ سپریم کورٹ نے اس حوالے سے مزید تیاری کے لیے وکیل کو وقت دیا ہے اور معاملہ کی مزید تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔