واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا این بی سی نیوز کے پروگرام ’میٹ دی پریس‘ کو دیا گیا انٹرویو اُس وقت اچانک ختم ہو گیا جب ان کی میزبان کرسٹن ویلکر کے ساتھ تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ انٹرویو امریکی ریاست وسکونسن میں ایک کسانوں کی تقریب کے دوران ریکارڈ کیا جا رہا تھا، تاہم بارش اور تکنیکی مسائل کے باعث گفتگو بار بار متاثر ہوئی۔ اس کے باوجود تقریباً 50 منٹ تک انٹرویو جاری رہا۔گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر 2020 کے صدارتی انتخابات اور کیلیفورنیا کے پرائمری انتخابات میں دھاندلی کے دعوے دہرائے۔ جب میزبان کرسٹن ویلکر نے ان دعوؤں کے ثبوت طلب کیے تو ٹرمپ نے کہا کہ انہیں “صرف دیکھنا اور سننا کافی ہے”۔میزبان کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ یہ ثبوت نہیں ہیں، جس پر ٹرمپ نے میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے اسے “بدعنوان” قرار دیا اور اینکر کو بھی سخت الفاظ کہے۔ انہوں نے کہا کہ “آپ یا تو بدعنوان ہیں یا بے وقوف”۔اسی دوران صدر ٹرمپ نے انٹرویو ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ “اب بہت ہو چکا، آئیے یہیں ختم کرتے ہیں”۔ انہوں نے بارش اور حالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے ہی کافی وقت دے چکے ہیں۔
انٹرویو میں ایران کے ساتھ کشیدگی، امریکی خارجہ پالیسی، انتخابی نظام اور 6 جنوری 2021 کے کیپیٹل ہل واقعات سمیت مختلف اہم موضوعات پر بھی بات چیت ہوئی۔ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے کہا کہ امریکا کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے اور یہ کوئی طویل جنگ نہیں ہوگی۔بعد ازاں این بی سی کی میزبان کرسٹن ویلکر نے بتایا کہ ان کی صدر ٹرمپ سے دوبارہ بات ہوئی ہے اور دونوں نے انٹرویو کے دوران پیش آنے والی مشکلات کو تسلیم کیا ہے، جبکہ ٹرمپ مستقبل میں دوبارہ پروگرام میں شرکت پر آمادگی ظاہر کر چکے ہیں۔