عالمی بینک کا پاکستان کے ترقیاتی شراکت داروں کیساتھ روابط کو بہتر بنانے پر زور

 بینک انتظامیہ 18سے 24ماہ میں نئے طریقہ کار کے تحت پہلے چند سی پی ایفز کے نفاذ کے بارے میں بورڈ کو بریفنگ دے گی
اسلام آباد(آئی این پی)ورلڈ بینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرز نے ورلڈ بینک گروپ، آئی ایم ایف اور دیگر اہم ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان موثر پارٹنر کوآرڈینیشن کی اہمیت پر زور دیا ہے، تاکہ پاکستان میں توانائی کے شعبے اور ملکی محصولات کو متحرک کرنے سمیت اہم اصلاحات کے نفاذ میں مدد جاری رکھی جا سکے اور عطیہ دہندگان کی صف بندی کو مضبوط بنایا جا سکے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق 14 جنوری کو اسلام آباد کے لیے کنٹری پارٹنرشپ کی منظوری دینے والے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کی سمری کے مطابق انہوں نے 2026سے 2035تک پاکستان کے لیے نئے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کی بھرپور حمایت کی۔ایگزیکٹو بورڈ نے فیصلہ کیا کہ بینک انتظامیہ 18سے 24ماہ میں نئے طریقہ کار کے تحت پہلے چند سی پی ایفز کے نفاذ کے بارے میں بورڈ کو بریفنگ دے گی۔پاکستان کا سی پی ایف ورلڈ بینک گروپ کے نئے کنٹری انگیجمنٹ ماڈل کی اہم خصوصیات کو اپنانے کی پہلی مثال ہے، جسے فی الحال حتمی شکل دی جا رہی ہے، ڈائریکٹرز نے سی پی ایف کے انتخاب اور 6 بنیادی نتائج پر اس کی توجہ کا خیرمقدم کیا۔انہوں نے ورلڈ بینک گروپ کے مضبوط نقطہ نظر اور عالمی علم، نجی شعبے کے حل پر مجوزہ انحصار، ترقی کو درست سمت میں رکھنے، مضبوط اور دیرپا نتائج کو یقینی بنانے کے لیے اعداد و شمار، نگرانی اور تشخیص کے ایجنڈے پر بڑھتی ہوئی توجہ کو سراہا۔