رمضان کے ماہ میں مہنگائی کی شدت میں اضافہ، ادارہ شماریات کی تازہ رپورٹ میں انکشاف

رمضان کے ماہ میں مہنگائی کی شدت میں اضافہ، ادارہ شماریات کی تازہ رپورٹ میں انکشاف

رمضان کے مقدس مہینے کے آتے ہی ملک میں مہنگائی کا جن بے قابو ہو گیا ہے، جس سے عوام کی زندگی مزید مشکل ہوتی جا رہی ہے۔

اس عرصے میں سبزیاں، گوشت، پیٹرول اور کپڑوں کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو عام شہری کے لیے ایک بڑے چیلنج کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ادارہ برائے شماریات نے حالیہ ہفتہ وار مہنگائی کی رپورٹ جاری کی ہے، جس کے مطابق ایک ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں 1.16 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سالانہ بنیادوں پر یہ شرح 5.19 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو ملک میں مہنگائی کی بڑھتی ہوئی سطح کی نشاندہی کرتی ہے۔رپورٹ کے مطابق، گزشتہ ہفتے کے دوران 17 ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ان میں سب سے زیادہ اضافہ درج ذیل ہے:

کیلا: 16.05 فیصد
پیاز: 3.83 فیصد
مرغی: 5.49 فیصد
لہسن: 5.86 فیصد
ٹماٹر: 3.82 فیصد
اس کے علاوہ، بیف اور مٹن کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے، جو گوشت کی طلب کو بڑھا رہا ہے۔ پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے عوام پر مالی بوجھ مزید بڑھ گیا ہے۔ اس کے علاوہ، بجلی اور کپڑوں کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔یہ مہنگائی کا طوفان عوام کے روزمرہ کے اخراجات کو بڑھا رہا ہے، جس سے عمومی معیار زندگی متاثر ہو رہا ہے اور لوگوں کو اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ فوری اقدامات کریں تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے اور مہنگائی پر قابو پایا جا سکے۔