مشعال ملک، کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ، نے غزہ کی طرز پر کشمیری عوام کے لیے بھی امن بورڈ کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق، پیس اینڈ کلچر آرگنائزیشن کی چیئرپرسن مشعال ملک نے کشمیر سے متعلق ایک سمپوزیم سے خطاب میں کشمیریوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ بھارت جبر کے ذریعے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے مطالبے کو دبانے کی کوشش کر رہا ہے، اور بھارت پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ہے۔ اس سے قبل یاسین ملک کی اہلیہ نے کہا تھا کہ مسئلہ کشمیر کو فرنٹ لائن پر لانے کا وقت آ گیا ہے اور مطالبہ کیا کہ گرفتار حریت رہنماؤں کو فوری رہا کیا جائے۔مشعال ملک نے مزید کہا کہ مودی کا ریکارڈ اچھا نہیں، وہ ایٹمی جنگ کی طرف لے جانے سے گریز نہیں کرتا، مگر اب اسے کسی کا سامنا مشکل ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی ثالثی کی پیشکش مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اہم ہے، کیونکہ یہ بھارت کا داخلی مسئلہ نہیں بلکہ کثیر الجہتی عالمی مسئلہ ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ شملہ معاہدے پر نظر ثانی کی جائے اور اس کو مسترد کیا جائے، اور کہا کہ گرفتار حریت رہنماؤں کو جلد رہا کیا جائے۔