تارکین نے ہوٹل کے کمروں میں کھڑکیوں پر مدد کریں، ہم اپنے ملک میں محفوظ نہیں ہیں جیسے پیغامات لکھ رکھے ہیں
پاناما (آئی این پی ) امریکا کی جانب سے ملک بدر کیے گئے پاکستانیوں سمیت 300افراد کو پاناما کے ایک ہوٹل میں رکھا گیا ہے۔ ان تارکین کو وطن واپسی جانے کی اجازت اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک بین الاقوامی حکام ان کی واپسی کے انتظامات نہیں کر لیتے۔فرانسیسی خبر رساں ا دارے کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ تارکین نے ہوٹل کے کمروں میں کھڑکیوں پر مدد کریں اور ہم اپنے ملک میں محفوظ نہیں ہیں جیسے پیغامات لکھ رکھے ہیں۔ ملک بدر ہونے والے ان افراد کا تعلق 10ایشیائی ممالک پاکستان، انڈیا، ایران، نیپال، سری لنکا، افغانستان، چین اور دیگر سے ہے۔پاناما کے سکیورٹی وزیر فرینک ابریگو نے کہا ہے کہ تارکینِ وطن کو پاناما اور امریکا کے درمیان ہجرت کے معاہدے کے تحت طبی امداد اور خوراک مل رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک بدر کیے جانے والے 299میں سے 171افراد نے بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت اور اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی کی مدد سے رضاکارانہ طور پر اپنے ممالک واپس جانے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔اقوام متحدہ کی ایجنسیاں دیگر 128 تارکین کے ساتھ بات چیت کر رہی ہیں تاکہ انہیں کسی تیسرے ملک بھجوایا جا سکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جو افراد اپنے ملک واپس جانے پر راضی نہیں ہوں گے انہیں عارضی طور پر دور افتادہ ڈیرین صوبے میں ایک جگہ رکھا جائے گا۔