سوڈان:باغی فورس کے حملے میں 300افراد کے قتل کاالزام

دوسو سے زائد افراد کو گھروں میںزندہ جلادیاگیا یا گولیاںمارکرہلاک کیا گیا، ایمرجنسی لائرز
خرطوم(آئی این پی )سوڈان میں انسانی حقوق کے وکلاء کے ایک گروپ نے الزام عائد کیا ہے کہ نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز نے ریاست شمالی کردفان کے دیہات پر حملہ کر کے انہیں نذر آتش کر دیا اور کم از کم 300افراد کو قتل کر دیا، جن میں حاملہ خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔یہ دعویٰ ایمرجنسی لائرز نامی انسانی حقوق کے گروپ نے کیا ہے، ملک کے مغربی علاقوں میں سوڈانی فوج اور آر ایس ایف کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔ایمرجنسی لائرز کے مطابق آر ایس ایف نے بارا شہر کے گرد و نواح میں واقع متعدد دیہات پر حملہ کیا، جو اس وقت آر ایس ایف کے کنٹرول میں ہے، شگ النعم نامی گائوں میں 200 سے زائد افراد کو قتل کیا گیا، جن میں سے بیشتر کو یا تو گھروں میں زندہ جلا دیا گیا یا گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا۔وکلاء تنظیم کے مطابق قریبی دیہات میں بھی 38 شہری قتل ہوئے جبکہ درجنوں افراد کو اغواء کر لیا گیا ہے۔ آر ایس ایف نے ایک اور قتل عام ہلات حمید نامی گائوں میں کیا، جہاں کم از کم 46افراد ہلاک ہوئے، جن میں بچے اور حاملہ خواتین شامل تھیں۔ایمرجنسی لائرز کے مطابق حملے کا نشانہ بننے والے دیہاتوں میں کوئی فوجی تنصیب یا مسلح عناصر موجود نہیں تھے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ حملے بین الاقوامی انسانی قانون کی صریحاً خلاف ورزی اور جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں، تنظیم نے ان جرائم کی براہ راست ذمہ داری آرایس ایف کی قیادت پر عائد کی۔