وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بانیٔ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے خلاف دائر ہتکِ عزت کے دعوے پر لاہور کے ایڈیشنل سیشن جج نے سماعت کی۔
سماعت کے دوران بانیٔ پی ٹی آئی کے وکیل نے شہباز شریف کے گواہ پر جرح کی۔ گواہ نے بیان دیا کہ ان کی اور ان کے پورے خاندان کی وابستگی مسلم لیگ (ن) سے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 8 اپریل 2017 کو بانیٔ پی ٹی آئی نے شہباز شریف پر 10 ارب روپے رشوت لینے کا الزام عائد کیا تھا۔گواہ کے مطابق 9 مئی 2017 کو انہوں نے اخبار میں پڑھا کہ شہباز شریف نے بانیٔ پی ٹی آئی کو اس الزام پر لیگل نوٹس بھیجا ہے۔
جرح کے دوران بانیٔ پی ٹی آئی کے وکیل نے سوال کیا کہ کیا موجودہ حکومت جعلی انتخابات کے ذریعے برسرِ اقتدار آئی؟ جس پر گواہ نے جواب دیا کہ ان الزامات میں کوئی صداقت نہیں۔ایک اور سوال کے جواب میں گواہ نے کہا کہ وہ مدعی شہباز شریف کو ذاتی طور پر نہیں جانتے بلکہ ایک پارٹی ورکر ہیں۔عدالت نے شہباز شریف کے مزید گواہوں کو طلب کرتے ہوئے سماعت 14 جنوری تک ملتوی کر دی۔