،دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں، ہر شکل اور صورت میں مذمت ہونی چاہیے: شہباز شریف
اسلام آباد(خصوصی رپورٹ )وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان سڈنی میں بونڈائی بیچ پر ہونے والی دہشتگردی کی بزدلانہ کارروائی کی مذمت کرتا ہے،دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور اس کی ہر شکل اور صورت میں مذمت ہونی چاہیے۔وزیراعظم سے پاکستان میں نے نئے تعینات ہونے والے آسٹریلیا کے ہائی کمشنر ٹم کین نے ملاقات کی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے نئے تعینات ہونے والے ہائی کمشنر کو مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ اور دوستانہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔وزیراعظم نے سڈنی میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے معصوم جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کی اس بزدلانہ کارروائی کی بلاشبہ مذمت کرتا ہے اور دکھ کی اس گھڑی میں آسٹریلیا کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور اس کی ہر شکل اور صورت میں مذمت ہونی چاہیے، جبکہ اس لعنت کے خاتمے کے لیے اجتماعی کارروائی ناگزیر ہے‘دریں اثناء شہباز شریف نے کہا ہے کہ خصوصی بچوں کا ہاتھ پکڑنا ہم سب کا اجتماعی فرض ہے اور حکومتِ وقت کی ذمہ داری ہے کہ ان بچوں کی فلاح و بہبود کے لئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ وزیراعظم نے اسلام آباد میں آٹزم سنٹر آف ایکسی لینس کے سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ادارے کے لیے 15 کوچز فراہم کرنے کا اعلان کیا اور ہدایت کی کہ یہ منصوبہ ایک سال کے اندر مکمل کیا جائے ۔ سلام آباد میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ایف بی آر کی کارکردگی کے حوالے سے ہفتہ وار جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیراعظم کو ایف بی آر کے انسداد سمگلنگ اقدامات، محصولات میں اضافے اور دیگر امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔وزیراعظم نے انسداد سمگلنگ کی کامیاب کارروائیوں کو سراہا اور کہا کہ ہر سال قوم کا اربوں روپے کا قیمتی سرمایہ سمگلنگ کی نذر ہوتا ہے، تاہم پاکستان کسٹمز کی کامیاب کارروائیوں سے سمگلنگ میں خاطر خواہ کمی آئی ہے اور متعدد اشیاء اب قانونی طور پر در آمد ہو کر معیشت کا باضابطہ حصہ بن رہی ہیں۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ٹیکس چوری اور سمگلنگ کے خلاف کسی قسم کی نرمی نہ برتی جائے، اور صوبائی حکومتیں غیر قانونی پیٹرول پمپس کے خلاف ایف بی آر کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔