مہنگائی بم چل گی پٹرول ، ڈیزل 55 روپے لٹر مہنگا
پٹرول 321روپے 17 پیسے ، ڈیزل 335روپے 86 پیسے لٹر ہوگیا، نئی قیمتوں کا اطلاق،کوشش کی عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالیں:اسحاق ڈار،معاملات بہتر ہوتے ہی اسی پھرتی سے قیمتیں کم کرینگے:وزیر پٹرولیم ، ورچوئل نظام تعلیم اور گھر سے کام کا پلان پیر کو پیش کرنے کی ہدایت
اسلام آباد،لاہور(بیورو رپورٹ ، کرائم رپورٹر)مہنگائی کا بم چل گیا ،نائب وزیر اعظم اسحق ڈار ، وزیرخزانہ اورنگزیب اور وزیرپٹرولیم علی پرویز ملک نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے پٹرول ، ڈیزل 55 روپے لٹر مہنگا کرنے کا اعلان کردیا، پٹرول کی نئی قیمت 321روپے 17 پیسے لٹر اور ڈیزل کی 335روپے 86 پیسے فی لٹر ہوگئی، نئی قیمتوں کا اطلاق کا رات 12 بجے سے ہوگیا۔ اسحاق ڈار نے کہا پورے خطے میں جنگ کی صورتحا ل ہے، دنیا میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے،وزیر اعظم شہباز شریف نے اجلاس کئے،وزیر اعظم نے میری سربراہی میں کمیٹی بنائی ، کمیٹی نے تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی،کوشش کی گئی کم سے کم بوجھ عوام پر ڈالاجائے،مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے درجنوں بارٹیلی فون پر بات ہوئی،پاکستان کی بھر پور کوشش ہے کہ ساتھیوں کو ساتھ ملا کر خطے میں کشیدگی کم کی جائے،اس کشیدگی کو کم کرنے میں کتنی دیر لگیکی دیکھنا ہے،وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈمارشل عاصم منیر بھی مختلف ممالک کے ہم منصبوں کے ساتھ رابطے میں ہیں،اس وقت معیشت کے استحکام سے متعلق ہم اچھی پوزیشن پر ہیں،ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں قیمتوں میں اضافہ کا درآمدات اور برآمدات پر کیا اثر ہوگا،وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایت ہے کہ اگلے دوروز میں چاروں وزیراعلی سے ملاقات کریں، پانچ روز گزر چکے ہیں روز جائزہ لیتے ہیں، قیمتوں میں ہر روز خطیر اضافہ ہورہا ہے۔وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کوئی شک نہیں کہ ہم غیر معمولی حالات سے گزر رہے ہیں، پڑوس میں شروع ہونے والی صورتحال نیپوریخطیکو لپیٹ میں لے لیا ہے، ہم نے صورتحال کے مطابق اپنے ذخائر کو بڑھا لیا تھا اور ہماری کوشش ہیکہ بطور ریاست اس کام کو حکمت کے تحت آگیلیکرچلیں۔انہوں نے اعلان کیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کا مشکل فیصلہ کیا ہے، پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 55 روپے اضافے کا فیصلہ کیا گیا جیسے ہی معاملات بہتر ہوں گے اسی پھرتی کے ساتھ قیمتیں کم کریں گے۔وزیراعظم نے خطے کی بدلتی صورتحال کے پیش نظر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے ہفتہ وار تعین کی منظوری دیدی، شہباز شریف نے پیٹرولیم مصنوعات کے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہدایت کرتے ہوئے کہا جو پٹرول پمپ مصنوعی قلت میں ملوث ہو، اس کو فوراً بند، لائسنس منسوخ کیا جائے۔وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پیٹرولیم مصنوعات کیسٹاک اور کھپت پر کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں وزیر خزانہ کی جانب سے وزیراعظم کو بریفنگ دی گئی۔ذرائع کے مطابق کمیٹی نے پیٹرولیم مصنوعات کی ہفتہ وار قیمتوں کے تعین کے بارے میں سفارشات پیش کیں جسے وزیراعظم نے منظور کرلیا۔ جبکہ تعلیمی اداروں میں ورچوئل نظام تعلیم اورآفسز کیلئے ورک فرام ہوم کاپلان پیرکو پیش کرنیکی ہدایت کی گئی ہے۔وزیراعظم نے وزیر خزانہ کو صوبوں سے مشاورت کے بعد پیر کو ورک فرام ہوم کے بارے میں پروپوزل پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ذرائع کا کہنا ہیکہ ان اقدامات کے باعث ایندھن اسٹاک کا مئوثر استعمال اور طلب میں کمی ہوسکے گی۔دوسری جانب اجلاس کے اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے جس کے مطابق وزارت پیٹرولیم نے بریفنگ میں بتایا کہ ملکی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کا مناسب ذخیرہ موجود ہے۔اس موقع پر وزیراعظم نے ہدایت کی کہ پیٹرولیم مصنوعات کے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کریں، جو پٹرول پمپ مصنوعی قلت میں ملوث ہو، اس کو فوراً بند کیا جائے، اوگرا مصنوعی قلت میں ملوث پٹرول پمپ کا لائسنس منسوخ کرکے قانونی کارروائی کرے جب کہ وزیر پٹرولیم صوبوں کا دورہ کریں، وزیرپٹرولیم صوبائی حکومتوں کے ساتھ پٹرولیم مصنوعات کی بچت اور عوام کو بلاتعطل فراہمی سے متعلق لائحہ عمل تیار کریں۔وزیراعظم نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی نقل و حرکت سے متعلق ڈیش بورڈ بنایا جائے، ڈیش بورڈ کے ذریعے صوبوں کے ساتھ رئیل ٹائم میں ڈیٹا شیئر ہو، ڈیش بورڈ کے ذریعے پٹرولیم مصنوعات کی نقل و حمل کی نگرانی کی جائے۔ دوسری جانب عالمی سطح پر بڑھتی کشیدگی اور سمندری راستوں پر ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات کے باعث ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی متاثر ہونے کی افواہیں گردش کرنے لگیں، جس کے بعد مختلف شہروں میں شہریوں کی بڑی تعداد نے پٹرول پمپس کا رخ کرنا شروع کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق ممکنہ قلت کے خدشے کے باعث کئی علاقوں میں پٹرول پمپس پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھنے میں آئیں جبکہ شہریوں میں بے چینی اور تشویش میں اضافہ بھی دیکھا گیا۔ لاہور شہر میں پٹرول پمپس پر ڈیزل اور پٹرول دو دن کا سٹاک رہ گیا، سپلائی کم ہونے سے خریداروں کا دبائو بڑھنے لگا،شہر میں 500 کے قریب پٹرول پمپس ہیں، صدر سنٹرل پنجاب پٹرول ڈیلرز ایسوسی ایشن نعمان مجید نے کہا لاہور میں روزانہ 40 سے 45 لاکھ لٹر پٹرول اور 20 سے 25لاکھ لٹر ڈیزل کی کھپت ہے،کمپنیوں کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی کم ہے، سپلائی بحال نہ ہوئی تو لاہور میں پٹرولیم مصنوعات کی قلت پیدا ہو جائے گی۔ ممکنہ قلت کی خبروں کے بعد شہریوں نے احتیاطی طور پر اپنی گاڑیوں کے ٹینک بھرنے کو ترجیح دی، جس کے باعث کئی پٹرول پمپس پر رش بڑھ گیا۔ توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی حالات مزید کشیدہ ہوئے یا بحری ترسیلات میں رکاوٹ پیدا ہوئی تو ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی متاثر ہونے کاخدشہ بڑھ سکتا ہیتاہم حکام کی جانب سے صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے بروقت اقدامات کیے جا سکیں۔ ۔ ایسوسی ایشن کے رہنمائوں نے کہا کہ ملک میں پٹرول کی مصنوعی قلت پیدا کرنیکا تاثر درست نہیں، پٹرول پمپس معمول کے مطابق فروخت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین نعمان بٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ پٹرول پمپ مالکان کسی قسم کی مصنوعی قلت پیدا نہیں کر رہے۔ ان کے مطابق پٹرول پمپس کو جتنی سپلائی فراہم کی جا رہی ہے وہ فوری طور پر فروخت ہو رہی ہے اور کسی بھی پمپ پر پٹرول یا ڈیزل ذخیرہ نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے کہا ملک بھر میں تمام پٹرول پمپس پر پٹرول و ڈیزل کی فروخت معمول کے مطابق جاری ہے اور شہریوں کو جتنی سپلائی موصول ہو رہی ہے اسی تناسب سے ایندھن دستیاب ہے۔ ان کا کہنا تھا پٹرول پمپس کے خلاف کارروائی یا لائسنس منسوخ کرنے کی بات بلاجواز ہے اور اس سے کاروباری حلقوں میں بے چینی پیدا ہو سکتی ہے۔ پٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن کے مطابق اگر کہیں سپلائی میں مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری پٹرول پمپس پر عائد نہیں کی جا سکتی۔ اصل توجہ آئل سپلائی کرنے والی کمپنیوں اور پٹرولیم مصنوعات کی طلب و رسد کی منصوبہ بندی کرنے والے اداروں پر ہونی چاہیے۔ حکومت کو چاہیے پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی چین کو مئوثر بنانے کیلیے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر جامع حکمت عملی اختیار کرے تاکہ کسی بھی ممکنہ بحران یا افواہوں سے پیدا ہونے والی صورتحال پر قابو پایا جا سکیاور عوام کو بلا تعطل پیٹرول کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔مزید برآں پاکستان کیلئے مارچ میں خام تیل کے 4 جہازوں کا انتظام ہوگیا۔ذرائع کے مطابق ایک جہاز کی یقین دہانی سعودی عرب نے کی ہے، ایک جہاز امارات سے فجیرہ کے راستے آئے گا۔پاکستان کیلئے دو خام تیل کے جہاز امریکا سے آئیں گے، سعودی عرب اور امارات سے آنے والے جہاز 70 ہزار ٹن کروڈ آئل کے ہوں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ امارات اور سعودی عرب سے پارکو کروڈ آئل منگوائے گی، امریکا سے سینر جیکو کروڈ آئل کے دو جہاز منگوا رہی ہے۔