توشہ خانہ 2 کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 10 سال قید کی سزا

توشہ خانہ 2 کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 10 سال قید کی سزا

: اسپیشل جج سینٹرل ایف آئی اے شاہ رخ ارجمند نے توشہ خانہ 2 کیس میں بانی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 10،10 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔

عدالت کی جانب سے دونوں مجرمان پر جرمانے کی سزا بھی عائد کی گئی ہے۔چالان کے مطابق بشریٰ بی بی کو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے 7 سے 10 مئی 2021 کے دوران اپنے دورہ سعودی عرب کے موقع پر بلغاری جیولری سیٹ بطور تحفہ دیا، جس میں ایک ہار، ایک کڑا، ایک انگوٹھی اور بالیوں کا جوڑا شامل تھا۔ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی نے یہ زیورات غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھے۔18 مئی 2021 کو ڈپٹی ملٹری سیکرٹری نے توشہ خانہ کے سیکشن آفیسر کو زیورات کی تخمینی قیمت سے آگاہ کیا، مگر یہ قانون کے مطابق توشہ خانہ میں جمع نہیں کرائے گئے۔

 بعد ازاں 25 مئی 2021 کو سعودی فرنچائز سیلوجنٹ ٹریڈنگ کو ہار 300,000 یورو اور بالیاں 80,000 یورو میں فروخت کی گئیں۔ زیورات کی کل تخمینی قیمت 75,661,600 روپے رکھی گئی، جبکہ قابل ادائیگی رقم 35,765,800 روپے ہونی چاہیے تھی۔ قیمت کم ظاہر کرنے سے قومی خزانے کو 32,851,300 روپے کا نقصان پہنچا۔عدالت کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے بطور وزیراعظم اختیارات کا غلط استعمال کیا۔ انہوں نے اپنے دور حکومت میں موصول ہونے والے 108 تحائف میں سے 58 اپنے پاس رکھے۔ توشہ خانہ 2 ریفرنس میں 22 گواہ شامل تھے، جن میں سیکشن آفیسر توشہ خانہ، پروٹوکول آفیسر، نیب کے افسران اور سابق پرسنل سیکرٹری شامل ہیں۔