توشہ خانہ ٹو کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کی بریت کی درخواست پر سماعت 14 نومبر تک ملتوی

توشہ خانہ ٹو کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کی بریت کی درخواست پر سماعت 14 نومبر تک ملتوی

ویب ڈیسک:توشہ خانہ ٹو کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی درخواست بریت پر سماعت 14 نومبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

 اس سماعت کا فیصلہ اسپیشل جج سینٹرل کی عدم دستیابی کی وجہ سے ملتوی کیا گیا ہے، حالانکہ اس دن عدالت نے درخواستوں پر فیصلہ سنانا تھا۔کیس کی تفصیل:توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی پر الزام ہے کہ انہوں نے توشہ خانہ سے تحائف کی خریداری کے متعلق قواعد کی خلاف ورزی کی۔ اس کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے بریت کی درخواست دائر کی تھی، جس پر آج فیصلہ سنایا جانا تھا۔ لیکن جج کی غیر موجودگی کی وجہ سے سماعت میں تاخیر کی گئی ہے اور اب یہ سماعت 14 نومبر کو ہوگی۔گزشتہ سماعت:اڈیالہ جیل میں ہونے والی گزشتہ سماعت کے دوران، فریقین کے دلائل مکمل ہو چکے تھے، اور عدالت نے ان دلائل کے بعد درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ اس سماعت میں دونوں ملزمان کے وکلا نے بریت کی درخواست پر دلائل دیے تھے اور عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا، جس کا اعلان آج (12 نومبر) کو کیا جانا تھا، لیکن جج کی غیر موجودگی کی وجہ سے یہ سماعت ملتوی کر دی گئی ہے۔
عمران خان کی ضمانت:اسپیشل جج سینٹرل نے توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران خان کی ضمانت کو مسترد کر دیا تھا، جس کے بعد انہیں جیل بھیج دیا گیا تھا۔ تاہم، بشریٰ بی بی کی ضمانت منظور ہو چکی تھی۔ نیب نے 13 جولائی کو عمران خان اور بشریٰ بی بی کو گرفتار کیا تھا، جب کہ ان دونوں نے عدت نکاح کیس میں ضمانت حاصل کی تھی۔ توشہ خانہ کیس میں ان دونوں پر الزام ہے کہ انہوں نے توشہ خانہ سے تحائف حاصل کیے اور انہیں غیر قانونی طور پر فروخت کیا۔نیب کی کارروائی:نیب کی جانب سے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف 2023 میں توشہ خانہ کے ایک نئے ریفرنس میں تحقیقات کی گئیں، اور ان پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے توشہ خانہ سے حاصل کردہ تحائف کو مارکیٹ میں بیچ دیا اور اس سے حاصل شدہ رقم کو چھپایا۔ نیب کی تحقیقات کے بعد، عمران خان اور بشریٰ بی بی کو گرفتار کیا گیا تھا، حالانکہ وہ عدت نکاح کیس میں ضمانت پر تھے۔نتیجہ:اس کیس میں آئندہ سماعت 14 نومبر کو ہوگی، اور اس میں ملزمان کی بریت کی درخواست پر فیصلہ سنایا جائے گا، جو کہ ابھی تک محفوظ ہے۔