نیب نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کالعدم کرنے کی استدعا کر دی

نیب نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کالعدم کرنے کی استدعا کر دی

ویب ڈیسک:اسلام آباد میں توشہ خانہ کیس کی سماعت کے دوران نیب نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کالعدم کرنے اور کیس ریمانڈ بیک کرنے کی استدعا کی۔

 یہ اپیلیں چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی سربراہی میں ہونے والی سماعت میں پیش کی گئیں۔اس سماعت میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جانب سے بیرسٹر علی ظفر نے نمائندگی کی، جبکہ نیب کی جانب سے اسپیشل پراسیکیوٹر امجد پرویز اور رافع مقصود عدالت میں پیش ہوئے۔ بیرسٹر علی ظفر نے عدالت کو بتایا کہ بشریٰ بی بی کی جانب سے استثنا کی درخواست دائر کی جا رہی ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس معاملے پر کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہیے، ہم اس حوالے سے آرڈر دیں گے۔نیب کے پراسیکیوٹر امجد پرویز نے کہا کہ وہ توشہ خانہ کیس میں سزا کے طریقہ کار سے متفق نہیں ہیں اور اس بارے میں انہوں نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطل کرنے کی تجویز دی۔ نیب نے عدالت سے درخواست کی کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کالعدم قرار دے کر کیس ٹرائل کورٹ کو دوبارہ بھیج دیا جائے۔

اس دوران بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ کیس جیل ٹرائل تھا اور 29 جنوری کو جراح کا حق ختم کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 30 جنوری کو بشریٰ بی بی کا بیان رات 11 بجے کے قریب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ 31 جنوری کو عمران خان کو سوالنامہ دیا گیا۔ بیرسٹر علی ظفر نے عدالت کو یقین دلایا کہ وہ اس حوالے سے ثبوت پیش کریں گے۔چیف جسٹس نے نیب پراسیکیوٹر سے پوچھا کہ کیا وہ بیرسٹر علی ظفر کی باتوں کو سننا چاہتے ہیں؟ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ وہ اس تجویز پر اعتراض نہیں کریں گے۔ عدالت نے بیرسٹر علی ظفر کو مزید دلائل دینے کی اجازت دی اور کہا کہ اگر نیب کی تجویز کی مخالفت کی گئی تو عدالت میرٹ پر فیصلہ کرے گی۔جسٹس حسن اورنگزیب نے کہا کہ اس کیس میں دو طریقے ہیں، ایک یہ کہ نیب کی تجویز کو قبول کیا جائے اور دوسرا یہ کہ کیس ٹرائل کورٹ میں دوبارہ شروع کیا جائے۔ اگر یہ دونوں تجویزیں مسترد کی جاتی ہیں تو عدالت تکنیکی خرابیوں کی طرف نہیں جائے گی۔آخرکار عدالت نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیلوں کی سماعت 21 نومبر تک ملتوی کر دی۔