ملک کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے باعث شہری گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے اور محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہوئے۔
رپورٹس کے مطابق اٹک، حسن ابدال، کامرہ، حضر اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ کھاریاں اور دیگر قریبی علاقوں میں بھی زمین ہلنے کا احساس ہوا۔ خوش قسمتی سے اب تک کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ محفوظ رہیں اور غیر مستند اطلاعات پر بھروسہ نہ کریں۔
اسلام آباد کے قریب شدت 4.2 کا زلزلہ صبح 9 بج کر 37 منٹ پر ریکارڈ کیا گیا۔ محکمہ زلزلہ پیما کے مطابق زلزلے کا مرکز تربیلا سے تقریباً 50 کلومیٹر جنوب مغرب میں اور زمین کی سطح سے 15 کلومیٹر گہرائی میں تھا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے کے جھٹکے زیادہ تر محسوس نہیں کیے گئے اور کسی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
خیبرپختونخوا کے بالائی علاقوں میں گزشتہ روز بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے، جن میں مالاکنڈ، دیر، چترال اور لنڈی کوتل شامل ہیں۔ زلزلہ پیما مرکز کے مطابق شدت 5.7 ریکارڈ کی گئی اور زلزلے کا مرکز ہندوکش کے علاقے میں بتایا گیا، جو افغانستان میں واقع ہے۔
زلزلے کیوں آتے ہیں؟
ماہرین کے مطابق زمین کی تہہ تین بڑی پلیٹوں پر مشتمل ہے: یوریشین، بھارتی اور اریبین۔ زیر زمین حرارت جمع ہونے کی وجہ سے یہ پلیٹس حرکت کرتی ہیں، جس سے زمین ہلتی ہے اور زلزلے پیدا ہوتے ہیں۔ زلزلے کی لہریں دائرے کی شکل میں چاروں جانب پھیلتی ہیں۔
پاکستان کے دو تہائی علاقے فالٹ لائنز پر واقع ہیں، جن میں کسی بھی وقت زلزلہ آ سکتا ہے۔ کراچی سے اسلام آباد، کوئٹہ سے پشاور اور گلگت بلتستان کے علاقے حساس ترین ہیں۔ ماہرین کے مطابق جن علاقوں میں ایک بار بڑا زلزلہ آ جائے، وہاں دوبارہ بڑا زلزلہ آنے کا امکان رہتا ہے۔
پاکستان زلزلوں کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں حساس ترین ملک ہے، جہاں یوریشین پلیٹ اور انڈین پلیٹ کے سنگم کی وجہ سے فالٹ لائنز مستقل متحرک رہتی ہیں اور وقفے وقفے سے زلزلے آتے رہتے ہیں۔