بھارت کے تحقیقاتی ادارے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے کرکٹ، فلم اور سیاست سے وابستہ کئی معروف شخصیات کے کروڑوں روپے مالیت کے اثاثے عارضی طور پر ضبط کر لیے ہیں۔
یہ کارروائی ایک غیر قانونی آن لائن بیٹنگ ایپ سے منسلک منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کے تحت کی گئی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے ذرائع کے حوالے سے اس پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔ ای ڈی کی جانب سے جن معروف شخصیات کے اثاثے ضبط کیے گئے ہیں، ان میں سابق بھارتی کرکٹر یوراج سنگھ اور روبن اتھپا، ترنمول کانگریس کی سابق رکن پارلیمنٹ میمی چکرورتی، اداکار سونو سود، اداکارہ نیہا شرما، ماڈل و اداکارہ اُروشی روتیلا کی والدہ اور بنگالی اداکار انکوش ہزارا شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ کیس بین الاقوامی آن لائن بیٹنگ پلیٹ فارم ’’1****xBe‘‘ سے منسلک ہے، جو قانونی طور پر کیوراساؤ (Curaçao) میں رجسٹرڈ ہے، تاہم بھارت میں اس کے آپریشنز کو غیر قانونی تصور کیا جاتا ہے۔ حکام کے مطابق اس کیس میں ایک ہزار کروڑ روپے سے زائد کے غیر قانونی مالی لین دین کا شبہ ہے۔ای ڈی نے انسدادِ منی لانڈرنگ قانون کے تحت ان اثاثوں کو ’’جرم کی آمدنی‘‘ قرار دیتے ہوئے عارضی طور پر ضبط کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ضبط کیے گئے اثاثوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
سابق کرکٹر یوراج سنگھ: تقریباً 2.5 کروڑ روپے
سابق کرکٹر روبن اتھپا: 8.26 لاکھ روپے
سابق رکن پارلیمنٹ میمی چکرورتی: 59 لاکھ روپے
اداکار سونو سود: 1 کروڑ روپے
اداکارہ نیہا شرما: 1.26 کروڑ روپے
بنگالی اداکار انکوش ہزارا: 47 لاکھ روپے
اداکارہ اُروشی روتیلا کی والدہ: 2.02 کروڑ روپے
ای ڈی ذرائع کے مطابق تفتیش کے دوران ان تمام شخصیات سے پوچھ گچھ بھی کی جا چکی ہے۔ اگرچہ براہِ راست غیر قانونی بیٹنگ نیٹ ورک چلانے کا الزام ثابت نہیں ہوا، تاہم ای ڈی کا مؤقف ہے کہ ان شخصیات نے تشہیری سرگرمیوں یا دیگر مالی لین دین کے ذریعے اس غیر قانونی پلیٹ فارم سے فائدہ حاصل کیا۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ اس کیس میں معروف کرکٹرز کے خلاف کارروائی کی گئی ہو۔ اس سے قبل ای ڈی نے اسی تحقیقات کے تحت سابق بھارتی کرکٹرز شیکھر دھون اور سریش رائنا کے 11.14 کروڑ روپے مالیت کے اثاثے بھی ضبط کیے تھے۔
واضح رہے کہ بھارت میں آن لائن بیٹنگ اور سٹے بازی کے بیشتر پلیٹ فارمز غیر قانونی تصور کیے جاتے ہیں، خصوصاً وہ پلیٹ فارمز جو بیرونِ ملک رجسٹرڈ ہو کر بھارتی صارفین کو ہدف بناتے ہیں۔ 1xBet جیسے پلیٹ فارمز پر الزام ہے کہ وہ بلیک منی، حوالہ نیٹ ورک اور ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے کروڑوں روپے بھارت سے باہر منتقل کرتے ہیں۔