غیر قانونی امیگرینٹس کی جبری بیدخلی کے لیے فوجی اثاثے استعمال کرنے کی تیاری کر رہے ہیں:ٹرمپ

غیر قانونی امیگرینٹس کی جبری بیدخلی کے لیے فوجی اثاثے استعمال کرنے کی تیاری کر رہے ہیں:ٹرمپ

ویب ڈیسک:امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے انتخابی وعدوں کے مطابق غیر قانونی امیگرینٹس کی جبری بیدخلی کے لیے ہنگامی حالت نافذ کرنے کی تیاری کرلی ہے۔

 ٹرمپ نے اس حوالے سے ایک بیان میں کہا کہ وہ امریکی تاریخ میں سب سے بڑے پیمانے پر غیر قانونی امیگرینٹس کو ڈیپورٹ کریں گے، اور اس عمل میں فوجی اثاثے استعمال کیے جائیں گے۔انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ان کا مقصد غیر قانونی تارکین وطن کی تعداد میں کمی لانا ہے اور وہ خاص طور پر ان افراد کو ہدف بنائیں گے جو کسی نہ کسی جرم میں ملوث ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق، غیر قانونی امیگرینٹس کے خلاف کارروائی فوراً شروع کی جائے گی اور اس کا مقصد امریکا کی سرحدوں کو محفوظ بنانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی سلامتی اور معاشرتی استحکام کے لیے یہ اقدام ضروری ہے۔

ٹرمپ نے اپنے انتخابی مہم کے دوران مسلسل یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ امریکا میں غیر قانونی طور پر مقیم تمام افراد کو واپس بھیج دیں گے۔ اس اعلان نے امریکی سیاست اور امیگریشن پالیسی پر وسیع بحث چھیڑ دی ہے، خاص طور پر ان افراد کے حوالے سے جو کئی برسوں سے امریکا میں مقیم ہیں اور ان کا یہاں کاروبار اور زندگی کا نظام قائم ہو چکا ہے۔ٹرمپ کے اس اقدام کی منصوبہ بندی کے تحت، امریکا کی فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے غیر قانونی امیگرینٹس کی گرفتاری اور بیدخلی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہوں گے۔ اس پالیسی پر عمل درآمد کے حوالے سے امریکی عوام اور حکومتی اداروں میں مختلف ردعمل سامنے آرہے ہیں، بعض افراد اسے امریکا کی سلامتی کے لیے ضروری سمجھتے ہیں، جب کہ دیگر اسے غیر انسانی اور معاشرتی سطح پر نقصان دہ قرار دے رہے ہیں۔یہ پالیسی امریکی سیاست میں ایک نیا موڑ پیش کرتی ہے، کیونکہ یہ ملک کی امیگریشن پالیسی کی سخت ترین شکلوں میں سے ایک ہوگی۔