ڈھاکہ میں سخت سیکیورٹی، کرفیو جیسے مناظر اور مسلسل مظاہرے، شاہ باغ پر مظاہرین کا قبضہ
عوام انتہا پسند گروہوں کی پرتشدد کارروائیوں کے خلاف چوکنا رہیں: عبوری حکومت کی اپیل
ڈھاکہ ( آن لائن‘آئی این پی )بنگلہ دیش میں طالب علم رہنما شریف عثمان ہادی کے لیے جمعہ کی نماز کے بعد دعائیہ تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق ڈھاکہ میں سخت سیکیورٹی نافذ ہے اور کرفیو جیسے مناظر دیکھنے میں آ رہے ہیں۔شاہ باغ پر مظاہرین نے مسلسل قبضہ قائم کر رکھا ہے اور بھارت مخالف نعرے لگاتے ہوئے قاتلوں کو بھارت سے واپس لانے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ ہادی کو بھارت کی غلامی کے خلاف آواز اٹھانے پر سزا دی گئی اور قاتل بھارت میں چھپے ہوئے ہیں۔چیف ایڈوائزر یونس نے ہفتہ کو ملک میں قومی سوگ کا دن قرار دیا ہے۔بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ملک میں چند تنہا انتہا پسند گروہوں کی جانب سے کی جانے والی پرتشدد کارروائیوں کے خلاف پوری طرح چوکنے اور باخبر رہیں۔یہ بیان عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر محمد یونس کے آفس سے جاری کیا گیا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ ہم ہر قسم کے تشدد، دھمکی، جلا ئو گھیرائو اور جان و مال کی تباہی کی سخت اور غیر مبہم الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔