پی آئی اے :7300 ملازمین ،35ارب تنخواہ

850ارب واجبات34جہاز، 12نا قابل استعمال ،ریٹائرڈملازمین کو 2023میں 38ارب ادائیگی 
اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)قومی اسمبلی کو وقفہ سوالات کے دوران بتایاگیا کہ پی آئی اے کے پاس اس وقت 34جہازہیں جن میں سے 12نا قابل استعمال ہیں،باقی 26جہازوں میں 17ورکنگ کنڈیشن میں ہیں،اس وقت پی آئی اے کے ملازمین کی تعداد7300ہیں جنہیں تنخواہوں کی مدمیں 35ارب روپے اداکئے جاتے ہیں،ریٹائرڈملازمین کوصرف 2023میں 38ارب روپے کی ادائیگی کی گئی ہے،پی آئی اے پر850ارب روپے کے واجبات ہیں، آئی ایم ایف کی مشاورت سے ان میں سے حکومت نے 623ارب روپے کے واجبات کی ذمہ داری لی ،ان میں سے 268ارب روپے کمرشل بینکوں کاقرضہ بھی شامل ہے،اس کے بعد پی آئی اے کے واجبات 183.6ارب روپے بنتے ہیں،ستمبر2023سے پی آئی اے کاماہانہ خسارہ 12.5ارب روپے سے لیکر15ارب روپے کے درمیان ہے۔ پی آئی اے کی نجکاری کے حوالہ سے اس باربہتربولیاں آنے کی توقع ہے، وزیرقانون اعظم نذیرتارڑ نے بتایا کہ نجکاری کے بعدروٹس اور آپریشن کے حوالہ سے ایک فریم ورک ورک دیاجائیگا جس کی پابندی ضروری ہوں گی، دنیا کے صرف چندممالک ہیں جہاں حکومتیں ایئرلائنزچلارہی ہیں۔پارلیمانی سیکرٹری سعدوسیم شیخ نے ایوان کو بتایا کہ چیئرمین ایف بی آر کی تقرری کابینہ کا استحقاق ہے،چیئرمین ایف بی آر کاتقررنجی شعبہ سے بھی ہوسکتاہے، کوئی بھی گریڈ21اور22 سے کم گریڈ کا آفیسر چیئر مین ایف بی آرنہیں بن سکتا۔ پارلیمانی سیکرٹری ذوالفقاربھٹی نیبتایاکہ ایک سال کے دوران بر آمدات میں 13فیصداضافہ ہوا اور تجارتی خسارے میں بھی کمی آئی ۔ انڈونیشیا اورملائشیا کے ساتھ تجارتی معاہدوں پرنظرثانی کی جارہی ہے۔