بھارتی ریاست اترپردیش کے علاقے ہٹا میں سرکاری اداروں نے ایک اور مسجد کا سروے شروع کر دیا ہے، جس کا مقصد ممکنہ طور پر اس مسجد کو مسمار کرنا بتایا جا رہا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، یہ سروے بھارتی حکومت کی مسلم دشمن پالیسیوں کا حصہ نظر آ رہا ہے، جس کے تحت مسلمانوں کے مذہبی، سماجی اور معاشرتی حقوق پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔حالیہ سروے کا نشانہ مدنی مسجد بنی ہے، جس کی تعمیر حال ہی میں کی گئی تھی اور جو ایک انتہاپسند ہندو تنظیم کی شکایت پر شروع کیا گیا ہے۔ ان تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ یہ مسجد سرکاری زمین پر تعمیر کی گئی ہے، تاہم مسجد کی انتظامیہ نے اس الزام کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ زمین تقریباً 15 سال پہلے خریدی گئی تھی، اور اس پر تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے ہیں۔ریونیو ڈیپارٹمنٹ کی ٹیم نے مسجد کی زمین کی پیمائش کی، اور اس دوران پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات تھی۔
باوجود اس کے کہ مسجد کمیٹی نے سروے کے نتائج فراہم کرنے کی درخواست کی تھی، انتظامیہ نے ابھی تک نتائج نہیں دئیے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ رپورٹ میں ردوبدل کیا جا سکتا ہے۔یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا ہے جب حالیہ دنوں میں ریاست اترپردیش کے علاقے سنبھل میں بھی ایک تاریخی مسجد کے حوالے سے سروے کیا گیا تھا، جسے ایک مندر ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس دوران پولیس نے مسجد کے انتظامیہ اور اس کے دفاع میں احتجاج کرنے والوں پر گولیاں چلائیں، جس کے نتیجے میں 4 مسلم نوجوان شہید اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔
اس سروے اور گزشتہ واقعات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی ریاست اترپردیش میں مسلمانوں کے مذہبی مقامات کو نشانہ بنانے کے لیے پالیسیوں پر عملدرآمد تیز کر دیا گیا ہے۔