بھارت میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے شروع کی جانے والی مہم ’’ووٹر ادھیکار یاترا‘‘ اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔
اپوزیشن رہنماؤں نے دعویٰ کیا ہے کہ اس مہم نے مودی سرکار کی مبینہ ’’ووٹ چوری‘‘ کو بے نقاب کر دیا ہے اور بھارتی جمہوریت کے دعوے ایک دھوکہ ثابت ہو چکے ہیں۔
اپوزیشن جلسے اور قیادت کی شمولیت
بھارتی میڈیا اے این آئی کے مطابق بہار میں ہونے والے جلسوں میں اپوزیشن رہنماؤں راہول گاندھی، تیجسوی یادیو اور مکیش سہنی نے بھرپور شرکت کی اور عوام سے خطاب کیا۔ جلسوں میں بڑی تعداد میں عوام کی شرکت کو مودی حکومت کے خلاف بڑھتی بے چینی کا مظہر قرار دیا گیا۔
راہول گاندھی کا سخت ردعمل
قائدِ حزبِ اختلاف راہول گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی کو براہِ راست ’’ووٹ چور‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ جھوٹ بول رہے ہیں تو مودی اب تک خاموش کیوں ہیں؟ ان کی خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ حقیقت عوام کے سامنے آچکی ہے۔راہول گاندھی نے الزام لگایا کہ انتخابی فہرستوں میں سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔ ان کے مطابق بہار کے ایک گاؤں میں 947 ووٹرز کو انتخابی فہرست میں ایک ہی گھر کا رہائشی ظاہر کیا گیا ہے، جو کہ جمہوری اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
مہم کا مقصد
اپوزیشن رہنماؤں نے کہا کہ ’’ووٹر ادھیکار یاترا‘‘ کا مقصد عوام میں ان بے ضابطگیوں کے خلاف شعور بیدار کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مودی حکومت اور الیکشن کمیشن کی ملی بھگت سے لاکھوں ووٹرز کو فہرستوں سے خارج کیا جا رہا ہے، تاکہ انتخابی نتائج کو اپنے حق میں موڑا جا سکے۔
’’مودی کی خاموشی ثبوت ہے‘‘
راہول گاندھی نے دعویٰ کیا کہ مودی کی خاموشی اس بات کی تصدیق ہے کہ یہ تمام تبدیلیاں ان کی نگرانی اور ہدایت پر ہو رہی ہیں۔ ان کے مطابق بہار کے انتخابات سے قبل عوام کے جمہوری حقوق چھین لیے گئے ہیں اور وزیراعظم خود کو ’’ووٹ چور‘‘ ثابت کر چکے ہیں۔
اپوزیشن کا مؤقف
اپوزیشن جماعتوں نے کہا ہے کہ ووٹر لسٹ میں تبدیلیوں سے واضح ہو گیا ہے کہ بھارت میں ’’نام نہاد جمہوریت‘‘ کے پردے میں دراصل آمریت مسلط ہے۔ ان کے مطابق عوامی مینڈیٹ چھیننے کی کوشش نہ صرف بھارتی جمہوریت کے لیے خطرناک ہے بلکہ ملک کے مستقبل کو بھی غیر یقینی بنا رہی ہے۔