سگنل فری کوریڈور منصوبے فائلوں میں دب گئے

لاہور (کرائم رپورٹر)لاہور کے سگنل فری کوریڈور منصوبے ماضی کی فائلوں کی نذر ہو گئے۔ شہر کے بڑے تجارتی اور رہائشی علاقوں کو ٹریفک کے دبائو سے نجات دلانے کیلئے بنائے گئے منصوبے کبھی عملی صورت اختیار نہ کر سکے۔کھاڑک سٹاپ سے فیروزپور روڈ تک سگنل فری کوریڈور کی تجویز پر کاغذی کام ہوا مگر منصوبہ ماضی کا قصہ بن گیا۔سکیم موڑ سے گلبرگ تک سگنل فری کوریڈور کا ڈیزائن بھی ادھورا ہی چھوڑ دیا گیا۔جیل روڈ سے ملتان روڈ تک سگنل فری کوریڈور پر اربوں کا تخمینہ لگایا گیا، فنڈز کی کمی اور حکومتی ترجیحات نہ ہونے پریہ منصوبہ آگے نہ بڑھ سکا۔ذرائع کے مطابق ماضی کی حکومتیں منصوبوں کی منظوری نہ دے سکیں اور لاہور کے دو سگنل فری کوریڈورز کے منصوبے بند کر دیئے گئے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بھی ان سکیموں کو شامل نہیں کیا گیا۔یہ کوریڈورز گلبرگ، کنٹونمنٹ، ماڈل ٹائون اور گارڈن ٹائون جیسے علاقوں کو ریلیف دینے کیلئے تجویز کیے گئے تھے۔ منصوبوں کے مطابق روزانہ دو لاکھ سے زائد گاڑیوں کو سگنل فری سفر کی سہولت ملنی تھی اور سالانہ دو ارب روپے کے ایندھن کی بچت کا تخمینہ لگایا گیا تھاتاہم آج بھی شہریوں کو ٹریفک جام سے نجات دلانے کے یہ منصوبے محض کاغذوں تک محدود ہیں اور ٹریفک دبائو کم کرنے کا خواب شرمندہٓ تعبیر نہیں ہو سکا۔