ایل ڈی اے:بیشتر منظور شدہ منصوبے فائلوں تک محدود

انجینئرنگ ونگ کی کارکردگی پر سوالات ،سکیموں کی نئی ترجیحات طے ہونیکاامکان
لاہور (خصوصی رپورٹ)لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا انجینئرنگ ونگ اپنے ہی مالی سال کے روڈ میپ پر عملدر آمد نہ کر سکا۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ مالی سال کے ایل ڈی اے بجٹ میں 34 نئی ترقیاتی سکیموں کی منظوری دی گئی تھی، جنہیں اتھارٹی کے ذاتی وسائل سے مکمل کیا جانا تھا۔تاہم فنڈز کی کمی، ترجیحات میں تبدیلی اور انتظامی تاخیر کے باعث بیشتر منظور شدہ منصوبے آغاز سے قبل ہی فائلوں تک محدود رہ گئے۔ بجٹ میں نئی سکیموں کے لیے ایک ارب اکہتر کروڑ روپے کا تخمینہ لگایا گیا تھا، مگر عملاً ان میں سے بیشتر منصوبوں پر کام شروع نہ ہو سکا۔ذرائع کے مطابق عبدالحق روڈ کی مرمت اور بحالی، ابوذر غفاری روڈ کی ری سرفیسنگ اور خیابان فردوسی سے شوکت خانم ہسپتال تک واک ویز کی تعمیر کے منصوبے تعطل کا شکار ہیں۔اسی طرح کالج روڈ سے خیرا ڈسٹری بیوٹری تک سٹرکچر پلان روڈ کی تعمیر پر بھی کوئی عملی پیش رفت نہ ہو سکی۔شہری علاقوں میں تزئین و آرائش کے لیے کینال روڈ، جیل روڈ، گلبرگ مین مارکیٹ اور رائیونڈ روڈ پر نئی لائٹس نصب کرنے کے منصوبے بھی تاحال مکمل نہیں ہو سکے۔ایل ڈی اے کے انجینئرنگ ونگ کی کارکردگی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے سکیموں کی ترجیحات ازسرِ نو طے کیے جانے کا امکان ہے۔