پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے واضح کیا ہے کہ ایران کو دھمکیوں یا دباؤ کے ذریعے غیر منطقی مطالبات منوانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
سفیر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ناکہ بندی جاری رکھنا اور ایران کو جنگی جرائم کی دھمکیاں دینا ناقابل قبول ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ صرف بیانات دے کر یہ دعویٰ کرنا کہ سفارت کاری کا راستہ اپنایا جا رہا ہے، حقیقت کے برعکس ہے۔رضا امیری مقدم کے مطابق جب تک ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی جاری رہے گی، مسائل اور اختلافات برقرار رہیں گے، اور حل ممکن نہیں ہوگا۔دوسری جانب، امریکا کی جانب سے ایک ایرانی بحری جہاز کو تحویل میں لینے کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے، جس کے مطابق سینٹکام نے اس جہاز کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔امریکی صدر ٹرمپ نے بھی سوشل میڈیا پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج نے ایرانی جہاز کو اس وقت روکا جب وہ آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ حالیہ پیش رفت خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتی ہے، جہاں ایک جانب سفارتی بیانات سامنے آ رہے ہیں، تو دوسری جانب عملی اقدامات تنازع کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔