ایرانی سفیر ڈاکٹر رضا امیری کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات، فلسطین کی حمایت پر تبادلہ خیال

ایرانی سفیر ڈاکٹر رضا امیری کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات، فلسطین کی حمایت پر تبادلہ خیال

ایرانی سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے پاکستان میں اپنی سرکاری رہائشگاہ پر مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی، جس میں انہوں نے ان کی صحت و تندرستی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

ایرانی سفیر کے ہمراہ سفارتخانے کا ایک وفد بھی موجود تھا، جس نے جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے نہ صرف ان کی صحت کے بارے میں گفتگو کی بلکہ پاکستان اور ایران کے دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال، اور غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ایرانی سفیر نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام اور مولانا فضل الرحمان کی جانب سے فلسطینی عوام کی حمایت میں کی جانے والی کاوشوں کی انہوں نے تعریف کی اور کہا کہ غزہ میں جاری صہیونی جارحیت کے خلاف جمعیت علماء اسلام کے مظاہرے اور فلسطینی عوام کی حمایت میں آواز بلند کرنے پر ان کی جماعت کو سلام پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات کا بھی اظہار کیا کہ علمائے کرام، بالخصوص مولانا فضل الرحمان جیسے مدبر سیاسی رہنماؤں کے ساتھ صلاح مشورہ کرنا بہت ضروری سمجھتے ہیں تاکہ فلسطین کے مسئلے پر عالمی سطح پر زیادہ آواز اٹھائی جا سکے۔

مولانا فضل الرحمان نے ایرانی سفیر کی باتوں کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ عالم اسلام کو فلسطینیوں کے حق میں مضبوط آواز بلند کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان، ایران، ترکی، سعودی عرب اور ملائشیا جیسے اہم مسلم ممالک کو غزہ کے دفاع اور اسرائیل کے خلاف ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ فلسطینی عوام کو انصاف مل سکے۔ انہوں نے اس موقع پر پاکستان میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے بارے میں بھی گفتگو کی اور کہا کہ پاکستان کے عوام کے ساتھ مل کر انہوں نے اس سازش کو دفن کر دیا ہے۔

ملاقات میں جے یو آئی کے مرکزی ترجمان اسلم غوری، سابق رکن قومی اسمبلی مولانا محمد قاسم، اور مفتی ابرار احمد بھی شریک تھے۔ اس ملاقات نے نہ صرف ایران اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی بنیاد رکھی بلکہ فلسطین کے مسئلے پر دونوں ممالک کی مشترکہ کوششوں کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔