ملک میں شدید گرمی اور توانائی بحران سے بچاؤ کے لیے حکومتی ہنگامی اقدامات

ملک میں شدید گرمی اور توانائی بحران سے بچاؤ کے لیے حکومتی ہنگامی اقدامات

ملک میں شدید گرمی اور بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات نے حکومت کو ہنگامی فیصلے کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے تحت بجلی کے بحران سے بچاؤ کے لیے فوری اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔  
ممکنہ لوڈشیڈنگ کے خطرے کے پیش نظر، حکام نے سستی اور متبادل توانائی ذرائع کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کو متحرک کر دیا ہے۔  میڈیا رپورٹس کے مطابق، پاور ڈویژن نے ایل این جی کی دستیابی کے لیے پٹرولیم ڈویژن کو باقاعدہ مراسلہ بھیجا ہے تاکہ بجلی کی پیداوار میں تسلسل برقرار رہ سکے۔  تفصیلات کے مطابق، بجلی کی بڑھتی طلب کو پورا کرنے کے لیے 400 ایم ایم سی ایف ڈی گیس فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے، کیونکہ درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ بجلی کے شارٹ فال میں بھی اضافہ متوقع ہے۔  حکام کے مطابق، موجودہ حالات میں ایل این جی کی فراہمی انتہائی ضروری ہے، اور اگر اسے بروقت فراہم نہ کیا گیا تو بجلی کا بحران سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔ یہ پلانٹس تقریباً 6 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔  
مزید برآں، ایل این جی کے ذریعے بجلی کی پیداوار ڈیزل اور فرنس آئل کے مقابلے میں کم لاگت میں ممکن ہے، اور اس کے بغیر مہنگے ایندھن پر انحصار بڑھ جائے گا۔  ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے اثرات براہِ راست صارفین تک پہنچ سکتے ہیں، کیونکہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔  پاور ڈویژن نے آئندہ ہفتوں کے بجلی کی طلب اور دستیابی کا تخمینہ بھی تیار کر لیا ہے، اور کے الیکٹرک نے اپنی ایل این جی ضروریات سے متعلق حکام کو آگاہ کر دیا ہے۔  ذرائع کے مطابق، پٹرولیم ڈویژن کو ہدایت کی گئی ہے کہ قطر سے ایل این جی کارگوز کے فوری انتظامات کیے جائیں تاکہ بجلی کی پیداوار متاثر نہ ہو۔