دنیا کے بیشتر ممالک میں دبلا پتلا جسم اور پتلی کمر کو خوبصورتی کی علامت سمجھا جاتا ہے، مگر Mauritania میں اس کے برعکس تصور پایا جاتا ہے۔
یہاں جتنی زیادہ جسم میں چربی ہو، اتنا ہی اسے خوبصورت اور پرکشش سمجھا جاتا ہے۔ایک بھارتی اردو اخبار کی ویب رپورٹ کے مطابق، موریطانیہ میں موٹی لڑکیوں کو پسند کیا جاتا ہے جبکہ دبلی لڑکیوں کو کم خوبصورت سمجھا جاتا ہے۔ اسی سوچ کے تحت والدین اپنی بیٹیوں کو جان بوجھ کر موٹا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ ان کی شادی آسانی سے ہو سکے۔اس روایت کو “لیبلوہ” یا “گیواج” کہا جاتا ہے، جو زیادہ تر دیہی علاقوں میں رائج ہے۔ اس کے تحت 5 سے 19 سال کی لڑکیوں کو مخصوص مراکز یا گھروں میں زبردستی زیادہ مقدار میں کھانا کھلایا جاتا ہے۔ ان کی خوراک میں اونٹ کا دودھ، کُسکُس، مونگ پھلی کا تیل، مکھن اور جانوروں کی چربی شامل ہوتی ہے، جس سے انہیں روزانہ 10 ہزار سے 16 ہزار کیلوریز تک دی جاتی ہیں—جو عام ضرورت سے کئی گنا زیادہ ہے۔
اگر لڑکیاں کھانے سے انکار کریں تو بعض اوقات ان پر تشدد بھی کیا جاتا ہے، جیسے مارنا یا دیگر سخت طریقے استعمال کرنا، تاکہ وہ زیادہ کھائیں۔اس رسم کے باعث لڑکیوں کو سنگین صحت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جن میں ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، دل کی بیماریاں اور سانس کے مسائل شامل ہیں۔ بعض کیسز میں خطرناک کیمیکلز کا استعمال بھی رپورٹ ہوا ہے، جو صورتحال کو مزید خراب کر دیتا ہے۔United Nations اور خواتین کے حقوق کے کارکنان اس روایت کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ تاہم، کچھ خاندان اسے محبت اور بہتر مستقبل کی ضمانت سمجھتے ہیں۔ تعلیم کے فروغ اور شہری علاقوں میں شعور بڑھنے کے ساتھ یہ رسم آہستہ آہستہ کم ہوتی جا رہی ہے۔