رمشا بتول
پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے۔ پاکستان میں تعلیم کا شدید بحران ہے۔ پنجاب میں آج بھی ایک کروڑ سے زیادہ بچے سکولوں سے باہر ہیں کیونکہ صوبائی حکومت پسماندگی کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کر رہی۔ پسماندگی کی سب سے بڑی وجہ نظامِ تعلیم میں پایا جانے والا بگاڑ ہے۔ عوام میں یہ مایوسی پائی جاتی ہے کہ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود بھی بچوں کو روزگار نہیں ملے گا، سرکاری نوکریاں نہیں ملیں گی، بچے ڈگریاں حاصل کر کے سڑکوں پر مارے مارے پھریں گے۔ضرورت اس امر کی ہے نظامِ تعلیم میں یورپی لیول کی انقلابی تبدیلیاں لائی جائیں۔ تعلیم کا مقصد صرف ڈگری نہیں، روزگار کے ساتھ ساتھ بچوں میں خود اعتمادی اور ہنر پیدا کرنا ہے۔ اس کا عملی حل یہ ہے
1. نصاب میں ہنر لازمی: نرسری سے لے کر میٹرک تک بچوں کے نصاب میں لازمی طور پر اسکلز ایجوکیشن ڈالی جائے۔ ہر بچے کو ہر کلاس میں کوئی نہ کوئی ٹیکنیکل ہنر سکھایا جائے۔
2. ڈگری + ہنر: تاکہ بچے تعلیم حاصل کرنے کے بعد سرکاری نوکریوں کے حصول کے لیے سڑکوں پر مارے مارے نہ پھریں۔ ان کے پاس اپنا ہنر ہونا چاہیے۔
3. اسکولوں میں ورکشاپس: ہنر سکھانے کے لیے ہر اسکول میں ورکشاپس کا قیام کیا جائے۔ نصابِ تعلیم میں تبدیلی کی جائے، ہنر کا الگ نصاب بنایا جائے۔
4. ہنر کی اہمیت اجاگر کی جائے: تعلیم کی بنیاد بچوں کی ٹیکنیکل ہنر سازی پر رکھی جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ تعلیمی نظام میں انقلابی تبدیلیوں کے لیے ہنر کی تعلیم کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹیکنیکل ایجوکیشن کو نرسری سے لے کر میٹرک تک لازمی قرار دیا جائے۔
5. چیک اینڈ بیلنس: ہر اسکول میں اس کا چیک اینڈ بیلنس رکھا جائے کہ بچوں کو عملی طور پر ہنرمندی کی تعلیم دی جا رہی ہے یا نہیں۔
یورپ میں بچوں کو آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور ٹیکنیکل طریقے سکھائے جا رہے ہیں کہ وہ پڑھائی کے ساتھ ساتھ اپنا روزگار بھی کما رہے ہیں۔ بچوں کو ہنر کی اہمیت پر لیکچر دیے جائیں اور عملی تربیت دی جائے۔
یاد رکھیں: پاکستان کی ترقی اور پاکستان کی معیشت کی کامیابی تب ہی ممکن ہے جب آنے والی نئی نسلیں ہنرمند اور با روزگار ہوں گی اور ملک کی ترقی میں اپنے ہنر اور ٹیکنیکل اسکلز کے ذریعے اہم کردار ادا کر سکیں گی۔ ڈگری کے ساتھ ہنر ہو گا تو ہی بیروزگاری کا جن بوتل میں بند ہو گا۔