‘‘مہنگائی بیروزگاری اور بڑھتی خودکشیاں

آپا منزہ جاوید 
یہ کیسا معاشرہ بن چکا ہے جہاں جینا مشکل اور مرنا آسان لگنے لگا ہے؟ یہ سوال اب محض ایک جملہ نہیں رہا بلکہ ایک تلخ حقیقت بن چکا ہے۔ ہر روز خبرناموں میں کسی کی خودکشی کی خبر آتی ہے اور معاشرے میں خوف اور مایوسی کا ماحول بڑھتا جا رہا ہے۔
مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے۔ تنخواہیں وہی ہیں مگر اخراجات کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔ بازار جائیں تو ہر چیز ہاتھ سے پھسلتی محسوس ہوتی ہے۔ آٹا چینی تیل بجلی گیس—سب کچھ مہنگا اور اتنا مہنگا کہ ایک عام انسان کے لیے زندگی گزارنا ایک مسلسل جدوجہد بن چکی ہے۔ ایک مزدور دن بھر محنت کرتا ہے مگر شام کو اس کے ہاتھ میں اتنا نہیں ہوتا کہ وہ اپنے بچوں کے لیے بھرپور کھانا لے جا سکے۔ ایک سرکاری ملازم حساب لگاتے لگاتے تھک جاتا ہے کہ تنخواہ کہاں خرچ کرے—گھر کا کرایہ دے یا بچوں کی فیس؟ دوا خریدے یا راشن؟
یہی وہ لمحے ہوتے ہیں جہاں انسان ٹوٹنا شروع ہوتا ہے۔ ایک عام آدمی کی چھوٹی چھوٹی خواہشیں بھی اس وقت لگ بھگ ناممکن ہو جاتی ہیں۔ گھر کے اخراجات، بچوں کی تعلیم، روزمرہ کے کھانے پینے کی ضرورتیں—یہ سب ایک دباؤ کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔
بیروزگاری نے اس ٹوٹ پھوٹ کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ نوجوان ڈگریاں لے کر دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ ہر دروازہ کھٹکھٹانے کے بعد جب جواب نفی میں ملتا ہے تو ان کے اندر ایک خاموش شکست جنم لیتی ہے۔ وہ خود کو ناکام سمجھنے لگتے ہیں حالانکہ قصور ان کا نہیں بلکہ نظام کا ہوتا ہے۔ کچھ نوجوان اپنی تعلیم کے باوجود روزگار نہ ملنے کی وجہ سے گھروں میں بیٹھ کر مایوسی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ دباؤ کبھی کبھی انتہائی قدم کی طرف لے جاتا ہے، جو معاشرے کے لیے خطرناک ہے۔
معاشرے کا رویہ بھی اس زخم پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ ہم کامیابی کو صرف پیسے سے تولتے ہیں۔ جس کے پاس دولت ہے وہ قابلِ احترام اور جو خالی ہاتھ ہے وہ نظرانداز۔ یہ رویہ انسان کو اندر سے توڑ دیتا ہے اس کے حوصلے کو دیمک کی طرح چاٹ جاتا ہے۔ لوگ اکثر یہ نہیں سمجھتے کہ ہر فرد کی جدوجہد مختلف ہوتی ہے۔ ایک متوسط خاندان کے لیے بچت کرنا بھی ایک چیلنج بن جاتا ہے اور اس کے باوجود معاشرہ اس کی کوشش کو نظرانداز کر دیتا ہے۔
پھر سوشل میڈیا ہے جہاں ہر طرف خوشحال زندگیوں کی نمائش ہے۔ بڑی گاڑیاں خوبصورت گھر قیمتی لباس—یہ سب دیکھ کرث ایک عام انسان اپنی زندگی کو کمتر محسوس کرنے لگتا ہے۔ وہ یہ نہیں جانتا کہ ان تصویروں کے پیچھے بھی دکھ ہو سکتے ہیں، وہ صرف اپنی محرومی دیکھتا ہے اور یہی احساس اسے مزید اندھیروں میں دھکیل دیتا ہے۔ سوشل میڈیا کی دنیا میں لوگ اپنے دکھ نہیں دکھاتے بلکہ صرف خوشیاں ظاہر کرتے ہیں، جس سے موازنہ کرنے والا شخص اپنی زندگی کو کم تر سمجھنے لگتا ہے۔
ان سب کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ مایوسی… ناامیدی… اور پھر ایک ایسا قدم جس کا کوئی واپسی راستہ نہیں ہوتا۔ خودکشیاں اب انفرادی مسئلہ نہیں رہیں، یہ ایک سماجی المیہ بن چکی ہیں۔ ہر خودکشی کے پیچھے ایک کہانی ہوتی ہے—ادھورے خوابوں کی، ٹوٹے ہوئے حوصلوں کی، اور ایسے مسائل کی جنہیں وقت پر سمجھا نہیں گیا۔ یہ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہیں کہ ہم اپنے اردگرد کے لوگوں کے مسائل کو کتنا سمجھتے ہیں۔
ہم اکثر کہتے ہیں ‘‘صبر کرو’’ ‘‘سب ٹھیک ہو جائے گا’’ مگر کیا ہم واقعی کسی کا درد سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں؟ کیا ہم نے کبھی کسی کی خاموشی کو پڑھا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں سننے کا ہنر نہیں رہا۔ اکثر لوگ اپنے اندر کا درد چھپاتے ہیں اور صرف آخر میں کسی خطرناک نتیجے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
یہ مسئلہ صرف فرد کا نہیں، ریاست اور معاشرے دونوں کی ذمہ داری ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ مہنگائی پر قابو پائے، روزگار کے مواقع پیدا کرے اور عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرے۔ خالی دعووں سے پیٹ نہیں بھرتا، عملی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہر سطح پر حکومتی نگرانی اور شفافیت کا فقدان بھی اس مسئلے کو بڑھاتا ہے۔
تعلیم کو بھی محض ڈگری تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے ہنر سے جوڑا جائے۔ نوجوانوں کو خود روزگار کے قابل بنایا جائے تاکہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں۔ جب ایک فرد خود کفیل ہوتا ہے تو اس کے اندر اعتماد بھی آتا ہے اور امید بھی زندہ رہتی ہے۔ ہنر کی تعلیم نوجوانوں کو عملی زندگی میں بہتر مواقع فراہم کر سکتی ہے اور انہیں مایوسی سے بچا سکتی ہے۔
ساتھ ہی ذہنی صحت کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ ہمیں اپنے گھروں اسکولوں اور دفاتر میں ایسا ماحول بنانا ہوگا جہاں لوگ بلا جھجھک اپنے مسائل بیان کر سکیں۔ ایک مخلص سننے والا ایک حوصلہ دینے والا جملہ کسی کی زندگی بچا سکتا ہے۔ ذہنی دباؤ کے شکار افراد کو مشاورت اور مدد کی فوری سہولت دینا ضروری ہے تاکہ وہ اپنی زندگی کی راہ میں حائل رکاوٹوں سے لڑ سکیں۔
بطور معاشرہ ہمیں بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہمیں لوگوں کو ان کی حیثیت سے نہیں بلکہ ان کی انسانیت سے پہچاننا ہوگا۔ ہمیں آسانیاں پیدا کرنی ہوں گی نہ کہ مزید مشکلات۔ ہر فرد کو سمجھنا چاہیے کہ چھوٹے چھوٹے رویے اور رویوں کی اصلاح معاشرتی تبدیلی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
آخر میں سوال وہی ہے ہم کہاں کھڑے ہیں؟ اگر ہم نے اب بھی آنکھیں بند رکھیں تو یہ مسئلہ مزید بڑھتا جائے گا۔ مگر اگر ہم نے سنجیدگی سے سوچا قدم اٹھایا اور ایک دوسرے کا سہارا بنے تو شاید ہم اس اندھیرے کو کم کر سکیں۔
کیونکہ زندگی مشکل ضرور ہے مگر اسے ناممکن نہیں بنانا چاہیے۔ امید اور حوصلہ ہی وہ راستہ ہے جو ہمیں اس بحران سے باہر نکال سکتا ہے۔