منشیات فروشی نسلوں کی تباھی، ذمہ دار کون

محمد ندیم بھٹی
پولیس ڈیپارٹمنٹ میں  ایک ایسا خوفناک سلسلہ جاری ھے جس پر ہر باشعور شہری اور ذمہ دار افسر کی فوری توجہ لازم ھے۔ منشیات فروش، جو نسلوں کو تباہ کرنے کے ذمہ دار ہیں، چند پولیس والوں  کا وطیرہ ھے کے کمزور کیس بنا کر  اس کے عوض بھاری  رقم ھڑپ کر نے کے  لئے عدالتی نظام  پر چھوڑ دیئے جاتے ہیں،  کمزور  کیس عدالت سے چند ماہ کی نرم سزائیں لینے کے بعد یہ ھی  لوگ دوبارہ وھی کام مختلف  اشکال  میں شروع کر دیتے ہیں اور نوجوان نسل کے لیے مستقل خطرہ پیدا کرتے ہیں، سوال یہ پیدا ھوتا ھے کہ اس پورے نظام پر کون غور کرتا ھے؟ نسلیں تباہ ھو رھی ہیں، نوجوان تباہ حال ھو رھے ہیں اور ایسا لگتا ھے جیسے کوئی اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کو تیار نہیں، جبکہ یہ معاشرے کے لیے شدید خطرہ اور فوری توجہ طلب معاملہ ھے حیرت انگیز اور افسوسناک حقیقت یہ ھے کہ منشیات کی برآمدگی کی اصل صورتحال عام عوام اور اعلی پولیس  افسران سے چھپی رہتی ھے، جس کا فائدہ تھانے کے لیول پر ھی چند مخصوص  لوگوں میں ھی بندر بانٹھ  ھو جاتی ھے ،مارکیٹ میں ہزاروں کلوگرام منشیات فروخت ھو جاتی ہیں لیکن عدالتوں میں پیش کیے جانے والے کیسز اکثر انتہائی کم مقدار کے ھوتے ہیں، اس کی وجہ رشوت اور معاونت ھے، کچھ لوگ بھاری رشوت کے بدلے منشیات فروشوں کے کیسز کو کمزور بنا دیتے ہیں تاکہ وہ عدالت میں محفوظ رہ سکیں، اس طرح وہ لوگ جو معاشرے کے قاتل ہیں دوبارہ آزاد ھو کر وھی کام جاری رکھتے ہیں اور پولیس کی محنت محض ظاہری دکھاوا بن کر رہ جاتی ھے، 
یہ صرف منشیات تک محدود مسئلہ نہیں ھے، ملک کے مختلف شہروں میں ایسی کئی مثالیں سامنے آ رھی ہیں جہاں ایک عام پولیس اہلکار جو ڈیڑھ لاکھ روپے تنخواہ لیتا ھے اچانک کروڑوں روپے کی نئی گاڑی لے لیتا ھے، حیرت انگیز بات یہ ھے کہ یہ گاڑیاں دنوں میں خریدی جاتی ہیں اور ان پر سرکاری سبز رنگ کی پلیٹ بھی نصب ھوتی ھے جیسے یہ کسی حساس ادارے کی گاڑی ھو، سوال یہ پیدا ھوتا ھے کہ ایک عام اہلکار یہ سب کیسے ممکن بنا لیتا ہے؟ وہ شوروم کا مالک کیسے بنتا ھے اور بڑی کوٹھی میں کیسے رہائش اختیار کر لیتا ھے؟ کیا سینئر افسران کو اس کا علم نہیں ھوتا یا سب کچھ جان بوجھ کر نظر انداز کیا جاتا ھے؟ یہ ھے پولیس کی اندرونی بدعنوانیوں اور نظام کی کمزوریوں کی نشاندھی۔ جس پر انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس راؤ عبدالکریم کو  نوٹس لینے کی سخت ضرورت ھے ان سے بیت سی توقعات  کی جارھی ہیں لیکن وہ بھی اتنا بھاری منصب سنبھالنے  کے بعد ابھی تک  کوئی بڑا ایکشن  نا لے سکے ہیں،
یہ صورتحال نہ صرف پولیس ڈیپارٹمنٹ کی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ھے بلکہ عوام میں اعتماد کو بھی ختم کر دیتی ھے، عام شہری سوچتا ھے کہ قانون کا نفاذ صرف دکھاوا ھے اور طاقتور اور رشوت خور عناصر ہمیشہ محفوظ رہتے ہیں، CCD اور CTD اور انویسٹی گیشن کی کارکردگی کی تعریفیں کی جاتی ہیں لیکن جب کیسز عدالت میں کمزور پیش کیے جاتے ہیں یا رشوت کے بدلے کم منشیات پیش کی جاتی ہیں تو اصل مقصد ناکام ھو جاتا ھے، منشیات کے بڑھتے ھوئے کاروبار نے نوجوان نسل کو تباہ کر دیا ھے، اسکولوں اور کالجوں کے طلبہ، محلے کے نوجوان اور کام کرنے والے نوجوان سب منشیات کے ہاتھوں متاثر ھو رھے ہیں، ہر دن، ہر شہر میں نئی نسل کے خواب اور صلاحیتیں برباد ھو رھی ہیں، اس پر چیف مبشر  شکایات  سیل  کو بھی  ایکشن  لینا چاھئے  لکین ابھی تک  اس سنگین  معملے پر غور کرنے والا کوئی نہیں اور یہی وجہ ھے کہ نوجوان نسلیں غیر محفوظ اور تباہ حال محسوس کر رھی ہیں،  ہمارے معاشرے کی سنگین تصویر اور فوری توجہ کا تقاضا۔
یہ بات بھی قابل غور ھے کہ پولیس کی داخلی صورتحال بھی عوام کے سامنے سوالیہ نشان پیدا کرتی ھے، جہاں ایک طرف پولیس اہلکار کروڑوں روپے کی گاڑیاں اور کوٹھیوں میں رہائش اختیار کر لیتے ہیں وہیں دوسری طرف سادہ پولیس افسران اور ان کی محنت کو نظر انداز کیا جاتا ھے، یہ عدم توازن اور غیر قانونی دولت کا حصول نہ صرف محکمہ پولیس کے اندر بدعنوانی کو فروغ دیتا ھے بلکہ قانون کی عمل داری کو بھی خطرے میں ڈال دیتا ھے،  صرف محکماتی کارروائیاں جو کافی نہیں، بلکہ شفافیت اور جوابدھی لازم ہیں۔
سینئر افسران کو چاہیے کہ وہ اس پورے نظام کا شفاف اور سخت جائزہ لیں، CCD، CTD پر ھزاروں لوگوں کے انکاونٹر کا
الزام  لگایا جاتا ھے لیکن انسانیت  کا قاتلوں کے بارے میں  تو کبھی الزام  بھی نہیں لگتا اس بات  سے اندازہ  لگائیں کے ان کا کروڑوں کی رشوت  کے عوض کتنا احترام  کیا جاتا ھے۔ پولیس  ڈیپارٹمنٹ  کے
 دیگر شعبے لاکھ کارروائیاں کر لیں لیکن جب منشیات فروش پولیس  معاونت  سے کمزور کیس  بنا کر پیش  کرنے پر عدالتی عمل و سزا سے بچ جاتے ہیں یا کمزور کیس کے باعث چھوٹ جائیں تو یہ دکھاوا انسانیت  کے قاتلوں  کو مزید  تقویت  پہنچاتا ھے۔
 عدالتی کارروائیوں کی شفافیت اور رشوت کے خلاف سخت اقدامات  عوام کے لیے حقیقی تحفظ  نہیں دے  سکتیں،  معاشرتی بقاء￿  کے لیے فوری اقدامات لازم ہیں۔ اس پورے عمل میں ایک اور سوال پیدا ھوتا ھے: انٹیلی جنس پولیس اپنی رپورٹ میں ان لوگوں کی نشاندہی کیوں نہیں کرتی اور چیف منسٹر  محترمہ مریم نواز صاحبہ کا شکایات سیل اس بات پر نوٹس کیوں نہیں لیتا ؟ اگر  کبھی ان رپورٹس پر فوری کارروائی کی جاتی تو منشیات فروشوں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف اصل اقدامات ممکن ھوتے اور نوجوان نسل کے لیے خطرات کم کیے جا سکتے تھے، یہ  واضح  محکماتی کمزوریاں ہیں بلکہ جوابدہی کا فقدان بھی سنگین مسائل پیدا کر رھا ھے۔
پولیس کی حقیقی ڈیوٹی پر بھی سوال اٹھتا ھے، آج کل کئی اہلکار کرکٹ ٹیم کے پروٹوکول کے لیے معمور کر دئیے جاتے ہیں اور علاقائی جرائم پیشہ افراد کھلے عام موٹر سائیکل پر دندناتے پھرتے نظر آتے ہیں غیر محفوظ  علاقے عوام میں پولیس کے اعتماد کو ختم کر رھے ہیں  اور حقیقی قانون نافذ کرنے والے ادارے کے طور پر محکمہ پولیس کی ساکھ کو داغدار کر رھے یئں۔ چیف منسٹر مریم نواز صاحبہ اس بات کا نوٹس ضرور لیں تاکہ نوجوان نسل کی حفاظت ممکن ھو سکے۔
یہ صورتحال اس بات کا بھی ثبوت ھے کہ نہ صرف پولیس میں داخلی کمزوریاں ہیں بلکہ عدالتی نظام کی سست روی اور رشوت خور عناصر کی موجودگی نے جرائم پیشہ افراد کو مزید ہمت دی ھے، وہ لوگ جو معاشرے کے قاتل ہیں تھانہ لیول کی خصوصی معاونت  پر دوبارہ آزاد ھو کر وھی کام کرتے ہیں اور پورا معاشرہ اس تباہی کا سامنا کرتا ھے،  عوام کے لیے اور ذمہ دار اداروں کے لیے ایک انتباہ کہ اگر فوری اور موثر اقدامات نہ کیے گئے تو معاشرہ تباہی کی دہلیز پر پہنچ جائے گا۔ اگر نسلوں کی بقاء￿  واقعی اہم ھے تو فوری اور سخت اقدامات کے بغیر یہ سلسلہ جاری رھے گا اور نوجوان نسلیں غیر محفوظ اور تباہ حال رہیں گی،   سینئر  پولیس افسران  کو چاھئے کی جونئر پولیس کی حرکات، شفافیت، عدالتی عمل کی سختی، اور منشیات فروشوں کے خلاف حقیقی کارروائی کو یقینی بنائیں، صرف اسی طرح ہم نہ صرف موجودہ خطرات سے نمٹ سکتے ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو محفوظ اور روشن مستقبل فراہم کر سکتے ہیں، اب مزید انتظار نہیں کیا جا سکتا، یہ  صرف محکمہ پولیس بلکہ تمام ذمہ دار اداروں کے لیے ایک انتباہ، عوام کے اعتماد کو بحال کرنا، قانون کی عمل داری کو مضبوط بنانا اور منشیات فروشوں کے خلاف مؤثر کارروائی یقینی بنانا اب وقت کی ضرورت ھے، اگر اس پر توجہ نہ دی گئی تو معاشرہ تباھی کی دہلیز پر پہنچ جائے گا اور وہ لوگ جو نسلوں کے قاتل اور انکاونٹر  کے قابل  ہیں، پھر کبھی روکے نہیں جا سکیں گے، حقیقی تبدیلی کے لیے فوراً قدم اٹھانا لازمی ھے۔