رفیع صحرائی
حالیہ دنوں میں بیرونِ ملک جانے والے پاکستانیوں کے حوالے سے یہ ایک خبر سامنے آئی کہ گزشتہ تین سال میں 18 لاکھ 71 ہزار سے زائد اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانی بہتر روزگار کے لیے ملک چھوڑ گئے۔ اس خبر پر حیرت اس لیے ہوئی کہ پاکستان میں ڈاکٹرز، نرسز، آئی ٹی ماہرین اور یونیورسٹی اساتذہ کی کل تعداد دس سے گیارہ لاکھ کے قریب ہے جبکہ رپورٹر کے مطابق تین سال میں 18 لاکھ 71 ہزار سے زائد ماہرین بیرون ملک چلے گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ بیرونِ ملک جانے والے ان افراد میں پروفیشنلز کی تعداد صرف 90 ہزار تھی۔ جن میں زیادہ تعداد میڈیکل کے شعبے سے تعلق رکھنے والے وہ نوجوان تھے جو بالکل تازہ ڈاکٹرز، نرسز اور فارماسسٹ بنے تھے اور یہاں بے روزگار تھے۔ باقی پونے اٹھارہ لاکھ کے قریب بیرونی ممالک میں جانے والے لیبر کلاس سے تعلق رکھتے تھے۔
یقیناً اگر ڈاکٹر، انجینئر، نرس، آئی ٹی ماہر، استاد یا کسی دوسرے شعبے کا حقیقی ماہر صرف اس لیے ملک چھوڑنے پر مجبور ہو کہ اسے یہاں مناسب روزگار، معاوضہ یا پیشہ ورانہ ماحول نہیں مل رہا تو یہ ریاست کے لیے لمح? فکریہ ہے۔ لیکن بیرونِ ملک جانے والے ہر پاکستانی کو ’’ماہر‘‘ قرار دینا بھی درست نہیں۔ ہمیں اعداد و شمار کو جذباتی نعروں کے بجائے حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد بہتر مستقبل کی تلاش میں بیرونِ ملک جاتی ہے اور ان میں بڑی تعداد ہنرمند اور محنت کش افراد کی بھی ہوتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر ایک پاکستانی بیرونِ ملک جا کر محنت سے اپنے خاندان کا معیارِ زندگی بلند کرتا ہے، باقاعدگی سے زرِمبادلہ پاکستان بھیجتا ہے اور ملکی معیشت میں حصہ ڈالتا ہے تو ہمیں اس کے جانے پر ماتم ہی کیوں کرنا چاہیے؟
اگر کسی نوجوان کو پاکستان میں 50 یا 60 ہزار روپے مل رہے ہوں اور بیرونِ ملک اسی ہنر کی کئی گنا اجرت مل رہی ہو تو اسے بہتر موقع اختیار کرنے کا حق ہے۔ دنیا بھر میں لوگ روزگار کے لیے ایک ملک سے دوسرے ملک جاتے ہیں۔ یہ انسانی تاریخ کا معمول ہے۔ بہتر حالات کے لیے ملک یا علاقہ چھوڑنا کوئی گناہ ہے نہ ہی قابلِ تعزیر جرم ہے۔ روزگار کے واسطے دوسرے علاقے میں جانا کوئی عیب یا برائی نہیں ہے۔ پیارے آقا ? خود مالِ تجارت لے کر شام و دیگر جگہوں پر جاتے رہے ہیں۔
بیرونِ ملک جانے میں ہمارے اپنے کلچر کا بھی کافی عمل دخل ہے۔
ہمارے ہاں ’’لوگ کیا کہیں گے؟‘‘ ایک ایسا جملہ ہے جس نے جانے کتنے خواب دفن کیے، کتنے ہنر ضائع کیے اور کتنے نوجوانوں کو بے روزگاری کے اندھیروں میں دھکیل دیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ہم اپنی ناک، عزت اور معاشرتی مرتبے کی فکر میں اتنے مبتلا ہیں کہ بعض اوقات حلال روزگار کو بھی اپنی توہین سمجھنے لگتے ہیں۔
ایک نوجوان میٹرک پاس کر لے تو بعض گھرانوں میں اسے یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ اب اسے کوئی معمولی کام نہیں کرنا چاہیے۔ ایف اے، بی اے یا ایم اے کر لے تو گویا ہاتھ سے کام کرنا اس کی شان کے خلاف ہو جاتا ہے۔ دکان پر بیٹھنا، ورکشاپ میں کام کرنا، ہوٹل میں ویٹر یا خانساماں بننا، ڈرائیونگ کرنا، پیکنگ کرنا، تعمیراتی کام کرنا یا کوئی ہنر سیکھنا اسے اپنی ’’تعلیم‘‘ کی توہین محسوس ہوتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو ریوالونگ چیئر پر بیٹھے کسی افسر کے روپ میں دیکھنے کا خواہاں ہوتا ہے اور اسی حالت میں وہ گھر بیٹھا بے روزگاری کا شکوہ کرتا ہے۔
یہی نوجوان جب دیارِ غیر پہنچتا ہے تو اس کی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ وہاں اسے یہ فکر نہیں ہوتی کہ محلے کا چودھری کیا کہے گا، رشتہ دار کیا سوچیں گے یا دوست مذاق اڑائیں گے۔ وہ ٹیکسی چلاتا ہے، ریسٹورنٹ میں کام کرتا ہے، سامان پیک کرتا ہے، پھول فروخت کرتا ہے، تعمیراتی مزدوری کرتا ہے اور مختلف نوعیت کے جسمانی کام بھی کرتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ کام چھوٹا نہیں ہوتا، آمدنی چھوٹی بڑی ہوتی ہے اور حلال کمائی بہرحال عزت کی کمائی ہے۔ یہ ہماری اجتماعی سوچ کا ایک بڑا تضاد ہے۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ پاکستانی باہر کیوں جا رہے ہیں؛ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو کس قابل بنا کر بھیج رہے ہیں۔ ہمیں افرادی قوت کی برآمد کو باقاعدہ قومی پالیسی بنانا چاہیے۔ دنیا میں نرسوں، ٹیکنیشنز، الیکٹریشنز، ویلڈرز، پلمبرز، ڈرائیورز، شیفس، تعمیراتی کارکنوں، مشین آپریٹرز اور آئی ٹی ماہرین کی ضرورت ہے۔ اگر پاکستان اپنے نوجوانوں کو عالمی معیار کے مطابق تربیت دے اور انہیں قانونی، محفوظ اور باعزت طریقے سے بیرونِ ملک روزگار فراہم کرے تو یہ بے روزگاری کے مسئلے کا ایک بڑا حل بن سکتا ہے۔
یہاں ایک بنیادی سوال بھی پیدا ہوتا ہے: ہم تعلیم تو دے رہے ہیں، لیکن کون سی تعلیم؟ اگر ہمارا تعلیمی نظام نوجوان کو صرف ڈگری دیتا ہے، ہنر نہیں؛سرٹیفکیٹ دیتا ہے، عملی صلاحیت نہیں؛ نوکری کی خواہش پیدا کرتا ہے، کام کرنے کی عادت نہیں؛ تو پھر ہمیں شکایت کس سے کرنی چاہیے؟
اگر میرے بس میں ہو تو ہر شہر اور ہر بڑے قصبے میں ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ادارے قائم کروں جہاں نوجوانوں کو ہنرمند بنایا جائے اور عام لیبرز کی بجائے پانچ سات کروڑ ہنرمند نوجوانوں کو بیرونِ ملک بھیج دوں جہاں وہ اپنے ہنر کو بیچ کر زیادہ پیسے کمائیں۔ زیادہ سے زیادہ زرِمبادلہ پاکستان بھیجیں۔ اپنے گھر والوں کو خوشحال بنائیں اور معاشی خوشحالی لا کر ملک کو غربت کے اندھیروں سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
ہمیں اپنے تعلیمی نظام میں ’’ڈگری‘‘ کے ساتھ ’’ہنر‘‘ کو بھی لازم کرنا ہوگا۔ ہر نوجوان ڈاکٹر یا انجینئر نہیں بن سکتا، نہ بننا ضروری ہے۔ ایک بہترین الیکٹریشن، ماہر مکینک، قابل شیف، ہنرمند ویلڈر یا تربیت یافتہ ٹیکنیشن بھی معاشرے کے لیے اتنا ہی ضروری ہے۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ ہم اپنے بچوں کو ہنر مند بنانے کے بجائے سرکاری یا دفتری نوکری کے خواب دکھاتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لاکھوں نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے روزگار تلاش کرتے رہتے ہیں جبکہ دوسری طرف مارکیٹ کو ہنرمند افراد کی شدید ضرورت ہوتی ہے۔
ہمیں اپنے بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ ہاتھ سے کام کرنا عار نہیں، ہنر سے محروم ہونا عار ہے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ بیرونِ ملک جانے والے پاکستانی صرف اپنے گھر نہیں چلاتے، ملک بھی چلاتے ہیں۔ ان کی ترسیلاتِ زر ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ بیرونِ ملک محنت کرنے والا ایک پاکستانی اپنے خاندان کے کئی افراد کی زندگی بدل سکتا ہے، بچوں کو تعلیم دلا سکتا ہے، گھر تعمیر کر سکتا ہے اور پاکستان میں سرمایہ کاری بھی کر سکتا ہے۔ البتہ ریاست کی ذمہ داری ختم نہیں ہو جاتی۔ حکومت کو ایسا معاشی ماحول پیدا کرنا چاہیے جہاں نوجوانوں کو ملک کے اندر بھی باعزت اور مناسب روزگار مل سکے۔ صنعت چلے، کاروبار بڑھے، سرمایہ کاری آئے، چھوٹے کاروبار آسان ہوں اور میرٹ پر روزگار دستیاب ہو تو بہت سے نوجوان بیرونِ ملک جانے کے بجائے اپنے وطن میں رہنے کو ترجیح دیں گے۔ لیکن جو نوجوان بہتر مواقع کے لیے بیرونِ ملک جانا چاہتا ہے، اسے روکنے کے بجائے اس کا راستہ آسان، محفوظ اور قانونی بنانا چاہیے۔
پاکستان کے پاس تیل کم ہے، گیس کم ہے، معدنی وسائل محدود ہیں، مگر ایک چیز وافر ہے، یعنی نوجوان انسانی سرمایہ۔ ہم اس سرمایہ کو اگر تعلیم، ہنر، کردار اور تربیت دے کر عالمی منڈی تک پہنچا دیں تو ہماری افرادی قوت ہماری سب سے بڑی برآمد بن سکتی ہے۔
بیرونِ ملک جانے والے ہر نوجوان کو ’’ملک چھوڑنے والا‘‘ کہہ کر ملامت کرنے کے بجائے یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ کیا لے کر جا رہا ہے اور کیا
واپس لا رہا ہے۔ اگر وہ ہنر، محنت اور حلال کمائی لے کر جاتا ہے اور زرِمبادلہ، تجربہ اور سرمایہ پاکستان واپس لاتا ہے تو یہ نقصان نہیں، ایک موقع بھی ہو سکتا ہے۔ بس ہمیں ’’لوگ کیا کہیں گے؟‘‘ کے حصار سے نکلنا ہوگا۔