میاں شاہد عباس
کسی کو برداشت کرنا بہت مشکل کام ہے، برداشت کرنے کے لیے حوصلے کی ضرورت اور بڑے دل کی ضرورت ہوتی ہے۔ برداشت کرنے والے لوگ دوسروں کو راستہ دے دیتے ہیں تاکہ نظام اور تصادم سے بچا جا سکے۔ جب لوگ برداشت کا دامن چھوڑ دیتے ہیں تو اس کے بعد عدم برداشت کا دور شروع ہوتا ہے جس کا راستہ تصادم، لاقانونیت، افراتفری اور بیچینی کی طرف جاتا ہے۔
پاکستان میں اگر ہم سیاست کی بات کریں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ یہاں پر برداشت بہت کم دکھائی دیتی ہے۔ ہر شخص خود کو منوانے اور اپنے اختیار پر حکمرانی کرنے کے لیے عدم برداشت کا تاج اپنے سر پر پہن کر آگے کی طرف دوڑ لگاتا ہے جس کا نقصان عوام کو جمہوریت کی کمزوری اور اس کے ڈھیلے پن کی صورت میں اٹھانا پڑتا ہے۔ اگر ہم پاکستان کی پولیٹکس کے اوپر نظر ڈالیں اور پاکستان کے سیاسی نظام کو دیکھیں تو کیا ہمیں کوئی ایسے سیاسی خاندان نظر آتے ہیں جن میں برداشت کا حوصلہ ہو، جو ڈلیور کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں، جو اپنی طاقت عوام کے فائدے کے لیے جمہوریت کو سپرد کر دیں تاکہ جمہوری نظام کامیابی کے ساتھ چل سکے؟
قائداعظم محمد علی جناح کے بعد اگر پاکستان میں لیڈرشپ دیکھیں تو ہمیں ذوالفقار علی بھٹو کی صورت میں ایک خوبصورت قیادت ملتی ہے جس میں برداشت کے ساتھ ساتھ عوام کی تنقید سننے اور اس تنقید کو مسکرا کر جواب دینے کا حوصلہ تھا۔ وہ خاموشی کے ساتھ جس مشن کو سوچتے اس پر عمل کرنا شروع کر دیتے تھے اور یہی برداشت ان کی بیٹی کو منتقل ہوئی۔ بے نظیر بھٹو نے اپنے کامیاب اور عروج کے دنوں میں اپنے دشمنوں کو برداشت کیا نہ کہ عدم برداشت کو پکڑ کر ان کے خلاف طاقت کا استعمال کیا، جھوٹے مقدمات بنائے یا ان کے جھنڈے جھنڈیاں اتارنے شروع کیے۔
بی بی شہید کی شہادت کے بعد ملک ٹوٹنے کی طرف، خانہ جنگی کی طرف اور خونریزی کی طرف تیزی کے ساتھ بڑھ رہا تھا۔ وہ وقت برداشت کا تھا جب آصف علی زرداری نے برداشت کیا اور ملک کو ٹوٹنے سے بچانے اور معصوم عوام کے قتل و غارت کو روکنے کے لیے ’’پاکستان کھپے ‘‘ کا نعرہ لگایا۔ انہوں نے بڑے اطمینان کے ساتھ ملک کی باگ ڈور کو اپنے ہاتھوں میں سنبھالا اور بڑی برداشت کے ساتھ اپنے دشمنوں کو دیکھ کر بھی ان کو برداشت کیا اور پاکستان کو ساتھ لے کر چلنے کا حوصلہ دکھایا۔
آصف علی زرداری نے عدم برداشت کو برداشت کے اوپر کبھی حاوی نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے ہمیشہ پاکستان کو اپنے لیے مقدم سمجھا۔ اقتدار کے لالچ میں ملک میں افراتفری اور سیاسی دہشت گردی کبھی نہیں ہونے دی بلکہ جمہوریت کے حق میں اپنے پاس موجود تمام اختیارات کو پارلیمنٹ کے سپرد کر دیا تاکہ پاکستان کا نظام جمہوری ادارے کھل کر عوام کی خدمت کر سکیں۔ اور جب جب پاکستان کو ضرورت پڑی تو انہوں نے ان لوگوں کے ساتھ بھی ہاتھ ملا لیا جنہوں نے آصف زرداری کو جھوٹے مقدمات میں قیمتی سال جیل میں گزارنے پر مجبور کیا، ان کی زبان تک کو کاٹا، ان کے بیوی بچوں کو ان سے دور رکھا، لیکن پاکستان کی خاطر برداشت کے دامن کو تھام کر ان
سب کو اپنے ساتھ لے کر چلے۔
موجودہ دور حکومت میں آصف علی زرداری نے پاکستان کے سیاسی نظام کو بڑھانے اور پاکستان کی بقا کے لیے جمہوری اداروں اور عوام کے حق میں نواز حکومت کی حکومت کو سپورٹ کیا اور برداشت کے دامن کو تھام کر اس سیٹ اپ کو آگے بڑھانے کے لیے محنت کی۔ لیکن دوسری طرف جب گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر جیسے جیالے کو — جس نے دن رات پنجاب میں محنت کی اور پیپلز پارٹی کے ناراض اور پسے ہوئے کارکنوں کو ساتھ جوڑا، جنہیں ماضی کے لیڈران نے بار بار نظرانداز کیا — تو سلیم حیدر نے ان سب کو سینے سے لگایا، گورنر ہاؤس کے دروازے کھول دیے، اور یہاں تک کہ لاہور سمیت پنجاب کے کسی بھی کارکن نے اگر اپنے گھر دعوت دی تو انہوں نے عہدے کی طاقت کو نہیں دیکھا بلکہ کارکن کی محبت کو دیکھا اور اس کے گھر پہنچے۔
پیپلز پارٹی کی اس حکمت عملی کو مسلم لیگ (ن) برداشت نہ کر سکی۔ وہ جہاں جہاں سردار سلیم حیدر کے پروگرامز ہوتے ہیں وہاں ان کے گورنر کے ڈیکورم کو اگنور کرتے ہوئے ان کی فلیکسز اتارنا شروع کر دیتے ہیں۔ چند دن پہلے لاہور ہائی کورٹ میں وکلا کی ایک بڑی تعداد نے گورنر پنجاب کو مدعو کیا اور ان کی خداداد صلاحیتوں کو خراجِ تحسین پیش کیا، لیکن نون لیگ والے، جن کے سر پر عدم برداشت کا تاج چوبیس گھنٹے سجا رہتا ہے، برداشت کا دامن چھوڑ کر ان کی فلیکسز اتارنے لگے۔