منتخب اسکولز کے کھلاڑیوں کی تربیت اور غذائیت پر خصوصی توجہ دی جائے گی:چیئرمین پی سی بی

منتخب اسکولز کے کھلاڑیوں کی تربیت اور غذائیت پر خصوصی توجہ دی جائے گی:چیئرمین پی سی بی

لاہور: چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی نے اسکول کرکٹ کو قومی کرکٹ کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، اصل چیلنج نوجوان کھلاڑیوں تک رسائی، ان کی بروقت شناخت اور انہیں مناسب سہولیات فراہم کرنا ہے۔

قذافی اسٹیڈیم لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے بتایا کہ پی سی بی کے اسکول ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کے دوسرے سیزن میں ملک بھر کے 100 اضلاع کے 1400 اسکولوں سے تقریباً 21 ہزار طلبہ حصہ لے رہے ہیں، جبکہ ٹورنامنٹ کے دوران تقریباً 2900 میچز کھیلے جائیں گے۔ پی سی بی کے مطابق گزشتہ سیزن میں یہ پروگرام 39 اضلاع کے 450 اسکولوں تک محدود تھا، جسے اب نمایاں طور پر وسعت دی گئی ہے۔چیئرمین پی سی بی کے مطابق 1400 اسکولوں میں سے بہترین کارکردگی دکھانے والی 50 ٹیموں کو پی سی بی اپنائے گا۔ ان اسکولوں کے منتخب کھلاڑیوں کی تربیت کے ساتھ ساتھ ان کی غذائی ضروریات پر بھی توجہ دی جائے گی تاکہ نوجوان کرکٹرز کو کھیل کے ساتھ مناسب جسمانی نشوونما کا ماحول فراہم کیا جا سکے۔محسن نقوی نے کہا کہ صرف ٹیم کی کارکردگی کی بنیاد پر کھلاڑیوں کا انتخاب نہیں کیا جائے گا بلکہ 21 ہزار طلبہ کی انفرادی کارکردگی بھی مانیٹر کی جائے گی۔ انفرادی سطح پر باصلاحیت کھلاڑیوں کی شناخت کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دینے کی بات بھی سامنے آئی ہے، تاکہ اگر کسی کھلاڑی کی ٹیم مجموعی طور پر اچھی کارکردگی نہ دکھا سکے تب بھی اس کی ذاتی صلاحیت نظروں سے اوجھل نہ ہو۔انہوں نے بتایا کہ اسکول کرکٹ کے لیے الگ ڈائریکٹر اسکول کرکٹ مقرر کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ پی سی بی اسکول ٹیلنٹ ہنٹ کو محض سالانہ سرگرمی کے بجائے ایک مستقل پروگرام بنانا چاہتا ہے، جس کے تحت پورا سال اسکولوں سے رابطہ رکھا جائے گا اور نئے ٹیلنٹ کی تلاش جاری رہے گی۔

چیئرمین پی سی بی کے مطابق اسکول ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام میں گوادر، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت ملک کے مختلف اور دور دراز علاقوں کو شامل کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دور دراز علاقوں کے نوجوانوں کو مواقع اور سہولیات فراہم کرکے ایسے کھلاڑی سامنے لائے جا سکتے ہیں جو مستقبل میں قومی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کریں۔محسن نقوی نے بتایا کہ پی سی بی کی اکیڈمی کی سطح پر تقریباً 25 نوجوان کھلاڑیوں پر پہلے ہی کام جاری ہے، جبکہ مستقبل میں مزید باصلاحیت کھلاڑیوں کو پی سی بی کے ایج گروپ اور پاتھ ویز سسٹم میں شامل کرنے کا منصوبہ ہے۔ پی سی بی کے مطابق بہترین اسکول کرکٹرز کو قومی کرکٹ کے ترقیاتی نظام سے جوڑنا پروگرام کا اہم مقصد ہے۔انہوں نے کہا کہ اسکولوں کی تعداد موجودہ 1400 سے بڑھا کر 2000 تک لے جانے کا ہدف ہے، جبکہ طویل المدتی منصوبے کے تحت اسکول کرکٹ کا دائرہ 3000 سے 5000 اسکولوں تک پھیلانے کی خواہش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات سے ملک کے مختلف علاقوں میں موجود کرکٹ ٹیلنٹ کو منظم انداز میں سامنے لانے میں مدد ملے گی۔

چیئرمین پی سی بی نے گراؤنڈز کے حوالے سے بتایا کہ بورڈ کے تقریباً 70 گراؤنڈز دوبارہ پی سی بی کے پاس آچکے ہیں جبکہ حیدرآباد اسٹیڈیم کی بحالی کے لیے سندھ حکومت کے ساتھ کام جاری ہے۔ ان کے مطابق اسکول کرکٹ کی کامیابی کے لیے پی سی بی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مشترکہ تعاون ضروری ہے۔پی سی بی کے مطابق اسکول ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کا دوسرا سیزن 19 ستمبر 2026 سے شروع ہو رہا ہے، جس کا افتتاحی میچ لاہور میں بیکن ہاؤس اور ایچی سن کالج کے درمیان کھیلا گیا۔ پروگرام کا مقصد اسکول کی سطح پر نوجوان کرکٹرز کو زیادہ سے زیادہ مسابقتی مواقع فراہم کرنا اور انہیں مستقبل کے قومی کرکٹ کے راستے سے جوڑنا ہے۔