نئی دہلی میں ہونے والے برکس سربراہ اجلاس کے بعد بعض عالمی رہنماؤں کی صحت سے متعلق اطلاعات سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا اور عالمی میڈیا میں مختلف قیاس آرائیاں گردش کر رہی ہیں۔
تاہم بھارتی وزارتِ خارجہ نے متعدد عالمی رہنماؤں کے اجلاس کے بعد بیمار ہونے سے متعلق سوشل میڈیا دعووں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں گمراہ کن قرار دیا ہے۔چینی صدر شی جن پنگ کی برکس اجلاس کے دوران ایک عشائیے میں عدم شرکت نے بھی ان کی صحت سے متعلق سوالات کو جنم دیا۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق شی جن پنگ نے نئی دہلی میں عالمی رہنماؤں کے لیے منعقدہ عشائیے میں شرکت نہیں کی اور بعض ذرائع نے بتایا کہ وہ طبیعت ناساز ہونے کے باعث اپنے ہوٹل واپس چلے گئے تھے۔ تاہم ان کی کسی سنگین بیماری میں مبتلا ہونے کی کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی۔چینی صدر کی صحت سے متعلق قیاس آرائیوں کے دوران سوشل میڈیا پر مختلف دعوے بھی سامنے آئے، تاہم بھارتی وزارتِ خارجہ نے شی جن پنگ کی صحت کے حوالے سے گردش کرنے والی بعض افواہوں کو ’فیک‘ قرار دیا۔ رپورٹس کے مطابق شی جن پنگ بعد ازاں طیارے تک خود چل کر گئے، جس سے سنگین طبی مسئلے سے متعلق دعووں کی تصدیق نہیں ہوتی۔دوسری جانب جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا کے برکس اجلاس سے وطن واپسی کے بعد طبیعت خراب ہونے کی باضابطہ اطلاع سامنے آئی۔
جنوبی افریقہ کے صدارتی دفتر کے مطابق رامافوسا کو ان کی طبی ٹیم نے آرام اور صحت یابی کا مشورہ دیا، جس کے باعث انہیں بعض عوامی مصروفیات سے الگ ہونا پڑا۔رامافوسا 11 ستمبر کو نئی دہلی پہنچے تھے اور 12 اور 13 ستمبر کو ہونے والے 18ویں برکس سربراہ اجلاس میں شریک ہوئے۔ جنوبی افریقی حکومت کے مطابق اجلاس کے دوران انہوں نے مختلف سیاسی، معاشی اور عالمی حکمرانی سے متعلق سیشنز میں شرکت کی۔برکس اجلاس کے دوران سرکاری عشائیے کے سبزی خور مینو پر بھی بھارت میں سیاسی اور سماجی بحث سامنے آئی۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت منڈپم میں منعقدہ سرکاری عشائیے میں مکمل طور پر سبزی خور اور علاقائی بھارتی کھانوں پر مشتمل مینو پیش کیا گیا، جبکہ بعض سیاسی حلقوں نے اس پر اعتراضات اٹھائے۔ دوسری جانب رپورٹس میں بتایا گیا کہ غیر ملکی مہمانوں کے قیام والے ہوٹلوں میں ان کی پسند اور غذائی ضروریات کے مطابق دیگر کھانے بھی دستیاب تھے۔
عالمی رہنماؤں کی صحت سے متعلق مختلف اطلاعات اور ان کے گرد پیدا ہونے والی افواہوں نے برکس اجلاس کی میزبانی، انتظامات اور معلومات کی فراہمی کے حوالے سے بحث کو جنم دیا ہے۔ تاہم دستیاب شواہد کی بنیاد پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اجلاس کے دوران پیش کیے جانے والے کھانے یا بھارتی انتظامات کی وجہ سے رہنماؤں کی طبیعت خراب ہوئی۔برکس کا 18واں سربراہ اجلاس 12 اور 13 ستمبر 2026 کو نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں بھارت کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں رکن اور شراکت دار ممالک کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس میں عالمی معیشت، تجارت، کثیرالجہتی نظام، پائیدار ترقی اور عالمی تعاون سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔