برکس اجلاس سے واپسی پر بھارت میں جنوبی افریقی صدر کی صحت بگڑ گئی

برکس اجلاس سے واپسی پر بھارت میں جنوبی افریقی صدر کی صحت بگڑ گئی

جنوبی افریقہ کے 73 سالہ صدر سیرل رامافوسا بھارت میں برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے بعد وطن واپسی پر طبیعت کی خرابی کے باعث عارضی طور پر عوامی سرگرمیوں سے دور ہوگئے ہیں۔

صدارتی دفتر کے مطابق رامافوسا پیر کو بھارت سے وطن واپس پہنچے تھے، جس کے بعد ان کی طبی ٹیم نے انہیں آرام اور صحت یابی کا مشورہ دیا۔ صدر کی بیماری یا طبیعت کی خرابی کی نوعیت سے متعلق مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔صدارتی دفتر کے مطابق رامافوسا نے کابینہ کے وزراء سے کہا ہے کہ جہاں ممکن ہو وہ ان کی مقررہ عوامی تقریبات میں نمائندگی کریں۔ تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ صدر کتنے عرصے تک عوامی سرگرمیوں سے دور رہیں گے۔دوسری جانب جنوبی افریقہ کے نائب صدر پال ماشاتیئلے بھی ایک طبی عمل کے بعد اپنے ڈاکٹروں کے مشورے پر آرام کر رہے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث حکومت کے بعض اہم عوامی اور بین الاقوامی امور میں دیگر اعلیٰ حکام کو نمائندگی کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔جنوبی افریقی براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے مطابق رامافوسا کی عدم موجودگی میں وزیر خارجہ رونالڈ لامولا رواں سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں جنوبی افریقہ کے وفد کی قیادت کریں گے۔

لامولا ایسے وقت میں امریکا جائیں گے جب واشنگٹن اور پریٹوریا کے درمیان جنوبی افریقہ کی نسل سے متعلق پالیسیوں اور امریکا کی جانب سے بعض جنوبی افریقی شہریوں پر عائد ویزا پابندیوں کے معاملے پر اختلافات موجود ہیں۔ امریکی حکام نے بعض اقدامات کو نسل کی بنیاد پر امتیازی سلوک سے جوڑا ہے، جبکہ جنوبی افریقہ نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے اپنی پالیسیوں کا دفاع کیا ہے۔رونالڈ لامولا نے حال ہی میں امریکی ویزا پابندیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ واشنگٹن کی جانب سے جنوبی افریقہ کی داخلی پالیسی کو غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق جنوبی افریقہ ماضی کی نسلی تقسیم سے نمٹنے اور جمہوری اقدار، سماجی انصاف اور بنیادی انسانی حقوق پر مبنی معاشرے کے قیام کے لیے اپنی آئینی ذمہ داری پوری کر رہا ہے۔رامافوسا نے بیماری سے قبل بھارت میں ہونے والے 18ویں برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کی تھی۔ اجلاس میں انہوں نے کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنانے، عالمی اداروں میں اصلاحات اور برکس ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے پر زور دیا تھا۔