2027 اب تک کا گرم ترین سال ہوگا, ماہرین نے خبردار کردیا

2027 اب تک کا گرم ترین سال ہوگا, ماہرین نے خبردار کردیا

جنیوا: ال نینو اور موسمیاتی تبدیلی کے مشترکہ اثرات کے باعث 2027 میں عالمی درجہ حرارت نیا ریکارڈ قائم کر سکتا ہے۔

عالمی موسمیاتی تنظیم (WMO) کے مطابق 2026 کے آخر میں بننے والا مضبوط ال نینو عالمی درجہ حرارت میں مزید اضافہ کر سکتا ہے، جس کے اثرات 2027 تک نمایاں رہنے کا امکان ہے۔WMO کی تازہ پیش گوئی کے مطابق 2026 سے 2030 کے درمیان کم از کم ایک سال کے 2024 کے عالمی درجہ حرارت کا ریکارڈ توڑنے کا امکان 86 فیصد ہے۔ 2024 اس وقت ریکارڈ پر دنیا کا گرم ترین سال ہے، جب عالمی اوسط سطحی درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کے 1850 سے 1900 کے اوسط کے مقابلے میں تقریباً 1.55 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہا تھا۔ماہرین کے مطابق ال نینو کے اثرات عموماً اس کے آغاز کے فوراً بعد اپنی پوری شدت سے عالمی درجہ حرارت پر اثرانداز نہیں ہوتے بلکہ کچھ تاخیر سے نمایاں ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے 2026 کے آخر میں مضبوط ہونے والا ال نینو 2027 کے درجہ حرارت میں اضافے کا اہم عنصر بن سکتا ہے۔ WMO رپورٹ کے مرکزی مصنف ڈاکٹر لیون ہرمنسن کے مطابق 2026 کے آخر میں متوقع ال نینو 2027 کے ریکارڈ گرم سال بننے کے امکانات میں اضافہ کرتا ہے۔

WMO نے یہ بھی پیش گوئی کی ہے کہ 2026 سے 2030 کے دوران عالمی اوسط درجہ حرارت 1.3 سے 1.9 ڈگری سینٹی گریڈ تک صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں زیادہ رہ سکتا ہے۔ اسی عرصے میں کم از کم ایک سال کے لیے عالمی درجہ حرارت کے 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ کی سطح سے عارضی طور پر تجاوز کرنے کا امکان 91 فیصد بتایا گیا ہے۔موسمیاتی ماہرین کے مطابق بڑھتا ہوا عالمی درجہ حرارت دنیا کے مختلف خطوں میں شدید گرمی کی لہروں، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر انتہائی موسمی واقعات کے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے۔ WMO کی علاقائی پیش گوئیوں میں آئندہ برسوں کے دوران مختلف علاقوں میں بارش کے معمول سے زیادہ یا کم ہونے کے امکانات بھی ظاہر کیے گئے ہیں۔

رپورٹ میں آرکٹک کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ آئندہ پانچ شمالی نصف کرہ کی سردیوں کے دوران آرکٹک میں درجہ حرارت 1991 سے 2020 کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 2.8 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جو عالمی اوسط درجہ حرارت میں اضافے سے کہیں زیادہ ہے۔WMO نے واضح کیا ہے کہ کسی ایک سال کا درجہ حرارت 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ کی حد سے تجاوز کرنا پیرس معاہدے کے طویل مدتی ہدف کی باضابطہ خلاف ورزی کے مترادف نہیں، کیونکہ اس ہدف کا جائزہ طویل عرصے کی اوسط گرمی کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ تاہم، ایسے عارضی تجاوزات کے زیادہ بار سامنے آنے سے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کی شدت میں اضافے کا خدشہ برقرار رہتا ہے۔

یوں 2027 کے حوالے سے موجودہ پیش گوئی ایک یقینی اعلان نہیں بلکہ موسمیاتی ماڈلز پر مبنی امکان ہے، تاہم ال نینو کی مضبوط صورتحال اور طویل مدتی عالمی حدت کے باعث آئندہ برس عالمی درجہ حرارت کے نئے ریکارڈ کا امکان نمایاں ہو گیا ہے۔